سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 385
۳۸۵ طرح ہندوستان کے احمدیوں کا کوئی ذکر نہیں تھا بلکہ پاکستان میں رہنے والے لوگوں سے خطاب تھا اور جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں احمدیت کی یہ تعلیم ہے کہ جس حکومت میں کوئی رہے اس کی اطاعت کرے پاکستان کے احمدی پاکستان کے مفاد کا خیال رکھیں گے اور ہندوستان کے احمدی ہندوستان کے مفاد کا خیال رکھیں گے۔اسی طرح جس طرح پاکستان کے رہنے والے ہند و پاکستان کا خیال رکھیں گے اور ہندوستان میں رہنے والے عام مسلمان ہندوستان کے مفاد کا خیال رکھیں گے۔یہی وہ بات ہے جس کی پاکستان کے لیڈر ہندوستان کے مسلمانوں کو تلقین کر رہے ہیں اور یہی وہ بات ہے جس کو ہندوستان کے لیڈر پاکستان کے ہندوؤں کو سمجھا رہے ہیں۔اگر ہندوستان کے بعض باشندے اپنے چوٹی کے لیڈروں کی بات بھی نہیں سمجھ سکتے تو وہ میری بات کس طرح سمجھ سکتے ہیں۔پس تم ان کی باتوں پر صبر کرو اور احمدیت کی اس نصیحت پر ہمیشہ کار بند رہو کہ جس حکومت میں رہو اس کے فرمانبردار رہو۔میں آسمان پر خدا تعالیٰ کی انگلی کو احمدیت کی فتح کی خوشخبری لکھتے ہوئے دیکھتا ہوں۔جو فیصلہ آسمان پر ہو زمین اسے رد نہیں کر سکتی اور خدا کے حکم کو انسان بدل نہیں سکتا۔سو تسلی پاؤ اور خوش ہو جاؤ اور دعاؤں اور روزوں اور انکساری پر زور دو اور بنی نوع انسان کی ہمدردی اپنے دلوں میں پیدا کرو کہ کوئی مالک اپنا گھوڑا بھی کسی ظالم سائیس کے سپرد نہیں کرتا۔اسی طرح خدا بھی اپنے بندوں کی باگ ان ہی کے ہاتھ میں دیتا ہے جو بخشتے ہیں اور چشم پوشی کرتے ہیں اور خود تکلیف اٹھاتے ہیں تا کہ خدا کے بندوں کو آرام پہنچے۔ہر ایک مغرور خود پسند اور ظالم عارضی خوشی دیکھ سکتا ہے مگر مستقل خوشی نہیں دیکھ سکتا۔پس تم نزمی کرو اور عفو سے کام لو اور خدا کے بندوں کی بھلائی کی فکر میں لگے رہو۔تو اللہ تعالیٰ جس کے ہاتھ میں حاکموں کے دل بھی ہیں وہ ان کے دل کو بدل دے گا اور حقیقت حال ان پر کھول دے گا یا ایسے حاکم بھیج دے گا جو انصاف اور رحم کرنا جانتے ہوں۔تم لوگ جن کو اس موقع پر قادیان میں رہنے کا موقع ملا ہے اگر نیکی اور تقویٰ اختیار کرو گے تو تاریخ احمدیت میں عزت کے ساتھ یاد کئے جاؤ گے اور آنے والی نسلیں تمہارا نام ادب و احترام سے لیں گی اور تمہارے لئے دعا ئیں کریں گی اور تم وہ کچھ پاؤ