سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 384
۳۸۴ کوئی شبہ نہیں کہ ان کا قبضہ مخالفانہ ہے۔لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ وہ لوگ مجبور اور معذور ہیں وہ لوگ بھی اپنے گھروں سے نکالے گئے ہیں اور ان کی جائیدادوں سے انہیں بے دخل کیا گیا ہے۔گو وہ ہمارے مکانوں اور ہماری جائیدادوں پر جبراً قابض ہوئے ہیں مگر ان کے اس دخل کی ذمہ داری ان پر نہیں بلکہ ان حالات پر ہے جن میں سے ہمارا ملک گذر رہا ہے۔اس لئے ہم ان کو اپنا مہمان سمجھتے ہیں۔اور آپ لوگ بھی انہیں اپنا مہمان سمجھیں ان سے بھی اور تمام ان شریف لوگوں سے بھی جنہوں نے ان فتنہ کے ایام میں شرافت کا معاملہ کیا ہے۔محبت اور درگذر کا سلوک کریں اور جو شریر ہیں اور انہوں نے ہمارے احسانوں کو بھلا کر ان فتنے کے ایام میں چوروں اور ڈاکوؤں کا ساتھ دیا ہے آپ لوگ ان کے افعال سے بھی چشم پوشی کریں۔کیونکہ سزا دینا خد اتعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھا ہے یا حکومت کے سپرد کیا ہے اور حکومت آپ کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اور لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔اگر حکومت اپنا فرض ادا کرے گی تو وہ خود ان کو سزا دے گی۔بہر حال یہ آپ لوگوں کا یا ہمارا کام نہیں ہے کہ ہم حکومت کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیں۔خدائے واحد لاشریک کے سامنے رعایا بھی اور حاکم بھی پیش ہوں گے اور ہر ایک اس کے سامنے اپنے کاموں کا جواب دہ ہو گا۔پس خدا کے حکم کے ماتحت اس حکومت کے فرمانبردار رہو جس حکومت میں تم بستے ہو۔یہی احمدیت کی تعلیم ہے جس پر گزشتہ ستاون سال سے ہم زور دیتے چلے آئے ہیں۔یہ تعلیم آج کل کے حالات سے بدل نہیں سکتی اور نہ آئندہ کے حالات کبھی بھی اسے بدل سکتے ہیں۔دنیا میں کبھی بھی امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس تعلیم پر عمل نہ کیا جائے کہ ہر ملک میں بسنے والے اپنی حکومت کے فرمانبردار رہیں اور اس کے قانون کی پابندی کریں۔کوئی اس تعلیم کو مانے یا نہ مانے احمدی جماعت کا فرض ہے کہ ہمیشہ اس تعلیم پر قائم رہے۔ملک کے قانون کے ماتحت اپنے حق مانگنے منع نہیں لیکن قانون تو ڑنا جائز نہیں۔میں نے سنا ہے کہ بعض غیر مسلموں نے میری ایک تقریر کے بعض فقرات کو بگاڑ کر قادیان میں اشتہار دیا کہ میں نے کہا ہے کہ تمام ہندوستان کے احمدیوں کو آزاد کشمیر کی گورنمنٹ کی امداد کرنا چاہئے اور جنگ میں ان کا ساتھ دینا چاہئے۔میری اس تقریر میں جنگ کا کوئی ذکر نہیں تھا بلکہ سردی میں ٹھٹھرنے والے لوگوں کے لئے کپڑے کی امداد کا ذکر تھا۔اسی