سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 379
۳۷۹ تمام مسلمانوں کی متحدہ کوشش نہایت ضروری ہے۔پس اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں تحریک کرتا ہوں کہ ہندوستان کے جنوب میں موکز اسلام کی حفاظت کے لئے جملہ مسلمان مل کر کوشش کریں۔اللہ تعالٰی ان کے ساتھ ہو۔" آنحضرت ممی نے بنی نوع انسان کی عزت و تکریم اور آنحضرت میم کی وصیت مساوات کے قیام کے لئے جو وصیت فرمائی تھی اس کی عام اشاعت کی سعادت حاصل کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں۔رسول کریم میں لیا اور ہم نے حجتہ الوداع میں جب کہ آپ کی وفات قریب آگئی بطور وصیت سب مسلمانوں کو جمع کر کے فرمایا اِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ (اور ابى بكره کی حدیث میں ہے وَأَعْرَاضَكُمْ) حَرَام عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا۔اس شہر میں اس مہینہ میں اس دن کو اللہ تعالیٰ نے جو حفاظت بخشی ہے (حج کے ایام کی بات ہے) وہی تمہاری جانوں اور تمہارے مالوں (اور ابی بکرہ کی روایت کے مطابق تمہاری عزتوں) کو خدا تعالیٰ نے حفاظت بخشی ہے۔یعنی جس طرح مکہ میں حج کے مہینہ اور حج کے وقت کو اللہ تعالیٰ نے ہر طرح پر امن بنایا ہے۔اسی طرح مومن کی جان اور مال اور عزت کی سب کو حفاظت کرنی چاہئے۔جو اپنے بھائی کی جان، مال اور عزت کو نقصان پہنچاتا ہے۔گویا وہ ایسا ہی ہے جیسے حج کے ایام اور مقامات کی بے حرمتی کرتا ہے۔پھر آپ نے دو دفعہ فرمایا کہ جو یہ حدیث سنے آگے دوسروں تک پہنچاوے۔میں اس حکم کے ماتحت یہ حدیث آپ تک پہنچاتا ہوں آپ کو چاہئے کہ اس حکم کے ماتحت آپ آگے دوسرے بھائیوں تک مناسب موقع پر یہ حدیث پہنچادیں اور انہیں سمجھا دیں کہ ہر شخص جو یہ حدیث سنے اسے حکم ہے کہ وہ آگے دوسرے مسلمان بھائی تک اس کو پہنچاتا چلا جائے " والسلام خاکسار مرزا محمود احمد خلیفة المسیح الفضل ۳۔جنوری ۱۹۴۰ء)