سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 380
۱۷۔جون ۱۹۴۳ء کو قادیان کے ایک نواحی گاؤں میں خدا حافظ آج بھی اور ہمیشہ ہی جماعت کا جلسہ ہوا۔قادیان سے بہت سے احمد کی جن میں الب علم اور بعض نابینا افراد بھی تھے اس جلسہ میں شمولیت کے لئے گئے۔غیر از جماعت افراد نے اس جلسہ میں روک ڈالنے کی کوشش کی بعض غیر مسلموں کے تعاون سے جلسہ تو بخیر و خوبی ہو گیا مگر واپسی پر گاؤں والوں نے احمدی افراد پر حملہ کر دیا۔احمدیوں نے روایتی امن پسندی اور صبر کا مظاہرہ کیا بعض احمدی شدید زخمی بھی ہوئے لیکن بعض مقامی افسران کے تعصب اور مخالفانہ رویہ کی وجہ سے جماعت کے بعض معزز افراد پر ناحق مقدمہ قائم کر کے انہیں پریشان کرنے اور جماعت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔مندرجہ ذیل پیغام حضور نے اس زمانہ میں جاری فرمایا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ۱۹۴۴ء کے شروع میں حکومت کو مقدمہ واپس لینا پڑا اور مخالفوں نے منہ کی کھائی۔اس وقت جماعت پر اس کے دشمنوں نے ایک سخت حملہ کیا ہے اور حکومت کے کچھ کل پرزے بھی اس میں شامل معلوم ہوتے ہیں احمدیت کے لئے پھر ایک ابتلاء کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔گورنمنٹ کے دلی دشمن جو اس کے ملازموں میں شامل ہیں انہیں ہماری جنگی خدمات نہیں بھا ئیں اور چونکہ وہ کھلا مقابلہ نہ کر سکتے تھے انہوں نے دوسرے اوچھے ہتھیاروں سے کام لینا شروع کیا ہے۔چند دنوں تک حقیقت واضح ہو جائے گی۔میں زندہ رہوں یا مروں جماعت کی عزت کی حفاظت کے لئے آپ لوگوں کا ہر قربانی کرنا فرض ہے۔کیا پچاس سال شکست کھا کر دشمن اب غالب آجائے گا۔کیا آج احمدیت کا ایمان جماعت کو گذشتہ قربانیوں سے زیادہ قربانیاں پیش کرنے کے لئے آمادہ نہ کرے گا۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ میں سے ہر شخص کہے گا کہ ضرور ضرور اور آسمان آپ کی آواز پر تصدیق کرے گا اور احمدیت کے پوشیدہ دشمن ایک دفعہ پھر منہ کی کھائیں گے۔اچھا خداحافظ آج بھی اور ہمیشہ ہی۔اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔بہادر بنو اور کسی انسان سے نہ ڈرو سوائے خدا کے۔" دعوت الی اللہ کی تاکید تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں بعض مشکلات اور روکوں کا علم ہونے پر بڑے درد اور دل سوزی سے فرماتے ہیں۔صحابہ کی طرح تبلیغ کریں۔جس طرح جو تک چھٹ جاتی ہے منتیں کریں۔غیرت