سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 378 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 378

۳۷۸ ” میں آج اس بلدہ سے جا رہا ہوں۔ایک صاحب نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ میں اس موقع پر کوئی پیغام مسلمانان حیدر آباد کے نام دوں۔اس مختصر سے وقت میں میں ایک ضروری بات کی طرف تمام احباب کو توجہ دلاتا ہوں۔ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت ایسی ہے جیسے بتیس دانتوں میں زبان ہوتی ہے۔اس جگہ کی حالت میں نے خود کسی قدر دیکھی ہے اور بہت سے لوگوں کی زبان سے سنا ہے جس سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ وہ کام جو ہمارے آباؤ اجداد نے اشاعت اسلام کے بارہ میں کیا تھا، آج مسلمان اس سے غافل ہیں بلکہ اختلافات کا شکار ہو رہے ہیں۔آج مسلمان اقلیت میں ہیں۔ان کے پاس اسباب نهایت محدود ہیں اور ان کا مقابلہ ان لوگوں سے ہے جو بہت بڑی اکثریت رکھتے ہیں اور جن کی تنظیم نہایت اچھی ہے۔اگر ان حالات میں بھی مسلمان یک جہتی سے کھڑے نہ ہوئے تو قریب زمانہ میں ان کی تباہی کے آثار نظر آتے ہیں۔اس لئے اپنی جماعت سے بھی اور دوسرے فرقہ والے دوستوں سے بھی میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ ان حالات میں اتحاد و اتفاق کی قیمت کو سمجھیں اور اختلاف کو اپنی تباہی کا ذریعہ نہ بنا ئیں۔میں دیکھتا ہوں کہ مسلمان ایسے حالات میں سے گذر رہے ہیں جن میں جانور بھی اکٹھے ہو جاتے ہیں اور لڑائی جھگڑے چھوڑ دیتے ہیں۔آپ نے دیکھا ہو گا کہ چڑیاں آپس میں لڑتی ہیں۔لیکن جب کوئی بچہ انہیں پکڑنا چاہتا ہے تو لڑائی چھوڑ کر الگ الگ اڑ جاتی ہیں۔اگر چڑیاں خطرہ کی صورت میں اختلاف کو بھول جاتی ہیں تو کیا انسان اشرف المخلوقات ہو کر خطرات کے وقت اپنے تفرقہ و اختلاف کو نظر انداز نہیں کر سکتا؟ مجھے افسوس ہے کہ مسلمانوں میں موجودہ وقت میں یہ احساس بہت کم پایا جاتا ہے۔اسلام جس کی عظمت کو اس کے دشمن بھی تسلیم کرتے ہیں اور جس کی تعلیم کے ارفع و اعلیٰ ہونے کو مخالف بھی مانتے ہیں اس کی اشاعت و نصرت سے منہ پھیر کر ذاتی اختلافات میں وقت ضائع کرنا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔موجودہ خطرات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ مسلمان باہمی اختلاف کو ایسا رنگ دیں جس سے اسلام کے غلبہ اور ترقی میں روک پیدا ہو۔سب مسلمانوں کا فرض ہے کہ پرچم اسلام کو بلند رکھنے کے لئے ہر قسم کی قربانی کریں۔جنوبی ہند میں ہمارے بزرگوں نے اسلام کی شوکت کو قائم کیا۔اس زمانہ میں ہمارا فرض ہے کہ اس عظمت کو دوبارہ قائم کریں اور اس کے لئے