سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 370
سے بچائے۔" تباہی کے لئے خود گڑھا کھودنے کے مترادف عمل کرتی ہے اور اس کا نتیجہ سوائے تباہی کے اور کسی صورت میں ظاہر نہیں ہوتا۔پس تم ہمیشہ ایسے ہی قومی جذبہ کے لئے کوشاں ر ہو جو حقیقی قومی جذبہ کا حامل ہو اور اسی طرف راہنمائی کرے اور جس کا نتیجہ یہ ہو کہ تمام دنیا کی اقوام متحد ہو کر آستانہ الہی پر سر بسجود ہوں اور یک دل و یک زبان ہو کر خدا کی بادشاہت کی طالب ہوں کہ وہ اس زمین پر آئے اور خستہ حال بنی نوع انسان کو تباہی روزنامه الفضل ۱۷۔اگست ۱۹۵۱ء) قرآنی تعلیم اور نظام کی نمایاں خوبی اور خدائی انعام " نظام خلافت" کے سلسلہ میں شیطانی و ساس اور رخنہ اندازیوں سے دور اول اور اس دور میں قوم کو جو تلخ تجربات ہوئے ان کے پیش نظر حضرت مصلح موعود زندگی بھر نظام خلافت کی مضبوطی اور استحکام کے لئے برابر کوشاں رہے آپ نے اپنی تقاریر و تصانیف مجالس شوری اور دوسری مجالس میں اس موضوع کے ہر پہلو پر سیر حاصل بحث فرمائی اور امکانی حد تک اختلاف و انشقاق کے تمام رستوں کو بند کرنے کی کوشش فرمائی۔آپ کی مندرجہ ذیل وصیت جو آپ نے ۱۹۱۸ء میں تحریر فرمائی اگرچہ حضور کی ہدایات و نگرانی میں زیادہ جامع اور بہتر لائحہ عمل مقرر ہو جانے کی وجہ سے اس پر عمل کی نوبت تو نہ آئی تاہم اس وصیت سے حضور کی سیرت کے متعدد درخشاں پہلوں نمایاں ہوتے ہیں اور آپ کے انداز فکر اور ترجیحات کا بخوبی علم حاصل ہوتا ہے۔میں ( مرزا محمود احمد ولد حضرت مسیح موعود ) خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر ایک وصیت جان کر ایسی حالت میں کہ دنیا اپنی سب خوبصورتیوں سمیت میرے سامنے سے ہٹ گئی ہے بقائمی ہوش و حواس رو بروان پانچ گواہوں کے جن کے نام اس تحریر کے آخر میں ہیں اور جن میں سے ایک خود اس تحریر کا کاتب ہے (حضرت مولانا شیر علی جماعت احمدیہ کی بہتری اور اس کی بہبودی کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ وصیت کرتا ہوں کہ اگر میں اس کاغذ کی تحریر کو اپنی حین حیات میں منسوخ نہ کروں۔تو میری وفات کی صورت میں وہ لوگ جن کے نام میں اس جگہ تحریر کرتا ہوں۔(اراکین کمیٹی:۔۱۔نواب محمد علی خاں صاحب ۲۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب ۳۔مولوی شیر علی صاحب -۴- مولوی سرور شاہ صاحب ۵- قاضی سید امیر حسین صاحب ۶۔چوہدری فتح محمد سیال صاحب۔حافظ روشن علی صاحب -۸- سید حامد شاہ صاحب۔میاں چراغ الدین -