سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 26 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 26

تاکہ خدائے واحد کی تسبیح و تمجید کریں اور اس کے نام کو بلند کریں۔یہاں عیسائیت کا قبضہ بتانے والا مر گیا اور اس کے ساتھی بھی مرگئے۔ان کا واسطہ خدا تعالیٰ سے جاپڑ اگر احمدیت زندہ رہی۔زندہ ہے اور زندہ رہے گی۔دنیا کی کوئی طاقت اسے مٹا نہ سکی اور نہ مٹا سکے گی۔عیسائیت کی کیا طاقت ہے کہ یہاں قبضہ جمائے۔عیسائیت تو ہمارا شکار ہے اور عیسائیت کے ممالک ہمارے شکار ہیں۔عیسائیت ہمارے مقابلہ میں گرے گی اور ہم انشاء اللہ فتح پائیں گے۔وہ دن گئے جب مریم کا بیٹا خدا کہلاتا تھا۔مریم کے جسمانی بیٹے کو انیس سو سال تک دنیا میں خدا کی توحید کے مقابلہ میں کھڑا کیا گیا۔اور بہتوں کو خدا تعالیٰ کی توحید سے پھر ا دیا گیا۔مگر اب جو مریم کا روحانی بیٹا خدا تعالیٰ نے کھڑا کیا ہے وہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت زمین میں اسی طرح قائم کرے گا جس طرح اس کی بادشاہت آسمان پر قائم ہے۔آج ہم اس جگہ پھر جمع ہوئے ہیں اس لئے کہ اپنی عقیدت اور اپنا اخلاص اپنے رب سے ظاہر کریں اور دنیا کو بتا دیں کہ احمدیت خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کی خاطر متفقہ جد وجہد کرنے کیلئے کھڑی ہے اور خدا تعالیٰ کے دین کیلئے ہر ممکن قربانی کرنے کیلئے آمادہ ہے۔احمدی کہلانے والے پھر ایک دفعہ یہاں جمع ہوئے ہیں اس لئے کہ ان کا ایک دو سرے کے گھر جا کر ایک دوسرے کے متعلق یہ دیکھنا مشکل ہے کہ ان کا کیا حال ہے۔لاہور کے کسی بازار میں اتفاقا ایک احمدی دوسرے احمدی کو دو سال بعد دیکھتا تو اسے خیال پیدا ہو تا کہ وہ مرتد تو نہیں ہو گیا۔اسی طرح چند سال کے بعد ایک احمدی دوسرے احمدی کو امر تسر کے بازار میں دیکھتا تو خیال کرتا نہ معلوم احمدیت سے اس کا تعلق ہے یا نہیں مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت نے چاہا کہ احمدی ہر سال مرکز میں جمع ہوں زیادہ سے زیادہ تعداد میں جمع ہوں اور مخالفین سے یہ کہتے ہوئے جمع ہوں کہ دیکھ لو خداتعالی زیادہ سے زیادہ احمدیت کو ترقی دے رہا ہے۔کہنے والے کہتے ہیں کہ ہم قادیان کے فاتح ہیں ، ہم قادیان کو مٹادیں گے مگر وہ آئیں اور دیکھیں کہ ان کے مٹانے سے کس طرح احمدیت بڑھ رہی ہے۔بچپن میں ہم ایک قصہ سنا کرتے تھے اور اسے لغو سمجھتے تھے مگر روحانی دنیا میں وہ درست ثابت ہوتا ہے۔کہا جاتا کوئی دیو تھا۔اسے جب قتل کیا جاتا تو اس کے خون کے