سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 333 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 333

۳۳ سلام میں ایک دفعہ پھر اس نازک موقع پر جس کی اہمیت کو جماعت نہیں سمجھتی حتی کہ قریب ترین لوگ اور اعلیٰ درجہ کے افسر بھی اسے نہیں سمجھتے میں دعا کی تحریک کرتا ہوں۔" (الفضل ۱۱۔فروری ۱۹۵۱ء) آنے والے دور کے لئے جس میں پہلے سے زیادہ مخالفت کا اندیشہ ہے جماعت کو ایک انقلابی تغیر پیدا کرنے کے لئے جہاد کی تلقین کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔" جہاں تک جماعت کے متعدد ممالک میں پھیل جانے کا سوال ہے ہماری ترقی قابل تحسین و فخر ہے مگر جہاں تک تعداد کا سوال ہے ہماری جماعت ابھی بہت پیچھے ہے۔جہاں تک مرکزی طاقت کا سوال ہے ہم اخلاقی اور عقلی طور پر اپنی پوزیشن قائم کر چکے ہیں بلکہ جہاں تک نفوذ کا سوال ہے ہم ابھی بہت پیچھے ہیں بلکہ ہماری مخالفت ترقی کر رہی ہے اور اب ان گروہوں اور جماعتوں میں بھی پھیل رہی ہے جو پہلے ہمیں نظر انداز کر دیتی تھیں یا ہمارے افعال کو خوشی کی نگاہ سے دیکھتی تھیں۔پس آنے والے سال میں ہمیں مزید جدوجہد کی ضرورت ہے ہمیں ایک انقلابی تغیر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ایک انقلابی تغیر پیدا کئے بغیر ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔یہ انقلاب ہمارے دماغوں میں پیدا ہونا چاہئے ، ہماری روحوں میں پیدا ہونا چاہئے ، ہمارے دلوں میں پیدا ہونا چاہئے ، ہمارے افکار اور جذبات میں پیدا ہونا چاہئے۔ہم اپنے دلوں روحوں اور دماغوں میں عظیم الشان انقلاب پیدا کئے بغیر اس مقام کو حاصل نہیں کر سکتے یا کم از کم اس مقام کو جلدی حاصل نہیں کر سکتے جس کو حاصل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ہماری جماعت ایک جہاد کرنے والی جماعت ہے۔بیشک ہم تلوار کے اس جہاد کے مخالف ہیں جو کسی ناکردہ گناہ پر تلوار چلانے کی اجازت دیتا ہے مگر ہم سے زیادہ اس جہاد کا قائل کوئی نہیں جو جہاد ذہنوں جذبات اور روحوں سے کیا جاتا ہے۔پس حقیقتاً اگر کوئی جماعت جہاد کی قائل ہے تو وہ صرف ہماری جماعت ہی ہے۔الفضل ۱۱۔جنوری ۱۹۵۲ء صفحہ (۳) جماعت کا حوصلہ بلند کرنے اور یہ سمجھانے کے لئے کہ مقامی مخالفت ہمیں مایوس و بد دل نہیں کر سکتی کیونکہ ہمارا کام بہت بڑا اور ہمارا مقصد بہت عظیم ہے آپ فرماتے ہیں۔