سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 324
۳۲۴ اور ہماری تعلیم یہی ہوتی تھی کہ امن سے رہو لیکن اس کے بعد زمانہ بدل گیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے ملک کے ایک حصہ میں ایسے لوگوں کو حکومت دے دی جن میں خواہ کتنی بھی کمزوریاں ہوں جن کی عملی حالت خواہ کتنی ہی گری ہوئی ہو بہر حال وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہیں دیتے بلکہ آپ پر درود پڑھتے ہیں۔وہ نماز کے مخالف نہیں ، وہ قرآن کے مخالف نہیں ، وہ قرآن کریم کی عزت کرتے ہیں چاہے وہ اسے اٹھا کر جھوٹی قسم ہی کیوں نہ کھالیں بہر حال پہلا زمانہ گیا اور وہ زمانہ آگیا جس کے متعلق رسول کریم میں لی لی لیلی کی یہ حدیث صادق آتی ہے کہ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ وَ عرضِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ۔جو شخص اپنے مال اور اپنی عزت کے بچاؤ کیلئے مارا جاتا ہے وہ شہید ہو تا ہے بلکہ صرف مال اور عزت کا ہی سوال نہیں حالات اس قسم کے ہیں کہ اگر کوئی خرابی پیدا ہوئی اور لڑائی پر نوبت پہنچ گئی تو وہ تباہی جو مشرقی پنجاب میں آئی تھی شاید اب وہ ایران کی سرحدوں تک بلکہ اس سے بھی آگے نکل جائے دوسروں کیلئے بھی مشکلات ہیں مگر ہماری جماعت کیلئے سب سے زیادہ مشکل ہے۔دوسرے لوگ بکھر گئے تو بکھر گئے لیکن ہماری جماعت ایک منتظم جماعت ہے جب تک وہ کہیں منتظم ہو کر نہ بیٹھے گی اس وقت تک وہ کوئی کام نہیں کر سکے گی۔یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ اس سلسلہ کو چلائے گا ٹھیک ہے مگر صرف اس بات پر مطمئن ہو جانا کہ خدا تعالیٰ اس سلسلہ کو قائم رکھے گا اور مادی تدابیر سے غافل ہو جانا کسی صورت میں درست نہیں ہو سکتا۔” میں نے ان حالات کو دیکھتے ہوئے جماعت میں یہ تحریک کی تھی کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے کشمیر کے معاملہ میں لڑائی کا فن سیکھنے کا ایک نہایت اعلیٰ درجے کا موقع عطا فرمایا ہے۔اگر پاکستانی احمدی وہاں کثرت کے ساتھ جائیں تو آئندہ انہیں اپنی طاقتوں کے صحیح استعمال کا بہترین موقع مل سکتا۔یہ بات ایسی نہیں تھی کہ میں نے تم کو کہا ہو اور اس پر عمل نہ کیا ہو میرے قریباً سارے لڑکے سوائے اس لڑکے کے جو ہندوستان میں ہے کیونکہ وہ ہندوستان کا باشندہ ہے اور اس کے لئے اس تحریک میں حصہ لینا ہمارے ملک اور طریق کے مطابق نا جائز ہے اسے بہر حال ہندوستان کی حکومت کا وفادار رہنا چاہئے یا سوائے ایک چھوٹے بچے کے جو بالغ نہیں۔باقی سب کے سب وہاں سے ہو کر آئے ہیں۔پس یہ نہیں کہ دوستوں کو میں نے کوئی ایسی بات کہی ہو جس سے میں نے