سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 325 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 325

۳۲۵ اپنوں کو بچایا ہو بلکہ میرے بعض بچے وہاں اس وقت کام کر کے آئے ہیں جب کہ صرف رات کے وقت وہ سفر کر سکتے تھے دن کو گولہ باری ہوتی رہتی تھی۔رستے دشوار گذار تھے اور سامان وغیرہ بھی اپنی پیٹھوں پر لاد کر لے جانا پڑتا تھا اب تو ٹرک آنے جانے لگ گئے ہیں۔سڑکیں بن گئی ہیں اور انتظام زیادہ عمدہ ہو گیا ہے۔۔۔۔میں نے بارہا کہا ہے کہ بغیر خون کی ندی میں سے گزرنے کے تم کامیاب نہیں ہو سکتے اور یہ بات بالکل غلط ہے کہ کوئی قوم خون کی ندی میں سے آپ ہی آپ گذرنے لگ گئی ہو اور اسے فوجی مشق کی ضرورت پیش نہ آئی۔۔۔۔قادیان میں رہتے ہوئے ہمارے لئے ایک مشکل تھی ورنہ ان دنوں میں بھی ہم یہی پسند کرتے کہ دشمن سے لڑ کر مر جائیں اور وہ مشکل یہ تھی کہ ہمیں حکومت سے لڑنا پڑتا تھا اور حکومت سے لڑنا ہمارے مذہب میں جائز نہیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ قادیان سے ہمارا پیچھے ہٹنا حرام اور قطعی حرام ہو تا اگر حکومت سے مقابلہ نہ ہوتا۔مگر چونکہ وہاں ہماری جنگ لوگوں سے نہیں ہوتی تھی بلکہ حکومت کے نمائندوں سے ہوتی تھی اور یہ چیز شرعا ہمارے لئے جائز نہیں تھی اس لئے ہم نے مقابلہ نہ کیا ورنہ اگر یہ صورت نہ ہوتی تو ہر شخص جو قادیان سے بھاگ کر آتا خواہ میں ہوتایا کوئی اور ہوتا بھگوڑا اور باغی ہو تا۔مگر چونکہ خدا کا حکم تھا کہ حکومت سے نہیں لڑنا اس لئے ہم پیچھے ہٹ گئے۔جیسے مکہ میں رہتے ہوئے رسولِ کریم یا ای میل کے لئے دشمن سے جنگ کرنا جائز نہیں تھا مگر جب آپ مدینہ تشریف لے گئے تو لڑائی آپ کیلئے جائز ہو گئی۔غرض اب حالات بالکل مختلف ہیں۔اب اگر پاکستان سے کسی ملک کی لڑائی ہو گئی تو حکومت کے ساتھ ہو کر ہمیں لڑنا پڑے گا۔۔۔۔اس لئے اب پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔جو لوگ فوجی خدمت دے رہے ہیں ان میں سے سوا سو کے قریب تو ایسے ہیں جن کو ہم کچھ گزارہ دیتے ہیں۔لیکن بہت کم۔در حقیقت یہ لوگ بڑے نیک ہیں بڑی قربانیاں کرنے والے ہیں بڑے اخلاص کے ساتھ کام کرنے والے ہیں اور سالہا سال سے اس فرض کو ادا کر رہے ہیں اور پھر اپنے عہدوں کے لحاظ سے بعض پانچواں بعض چھٹا اور بعض ساتواں حصہ گزارہ لے رہے ہیں۔میں نے خود گورنمنٹ کی ایک رپورٹ دیکھی ہے جس میں یہ ذکر کیا گیا ہے۔۔۔غرض انتہائی قربانی کے ساتھ یہ لوگ