سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 321
۳۲۱ قیام پاکستان کے حالات اور جماعت کی تاریخ سے واقف ہر منصف مزاج پر یہ امر ظاہر ہے کہ حضرت مصلح موعود نے قیام و استحکام پاکستان کیلئے بھر پور خدمات سرانجام دیں مگر بعض مخالف اس کے باوجود ضد اور تعصب سے کام لیتے ہوئے یہ الزام لگانے لگ گئے کہ حضور اور جماعت احمد یہ قیام پاکستان کے مخالف تھے۔یہ اعتراض انتا بعید از عقل اور بے بنیاد ہے کہ جواب دینے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔تاہم اس سلسلہ میں حضور کے بعض بیانات جو نہ صرف حقیقت حال کو واضح کرتے ہیں بلکہ حضور کی پاکستان سے محبت و عقیدت کے بھی مظہر ہیں درج ذیل ہیں۔مخالفین کی طرف سے ایک اشتہار شائع کیا گیا کہ حضور اکھنڈ ہندوستان کے حامی تھے اور اس سلسلہ میں آپ نے اپنا کوئی الہام بھی شائع کیا تھا۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے حضور نے فرمایا۔"حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہندو مسلمان میں اختلاف انتہاء کو نہیں پہنچا میری کوشش تھی کہ کسی طرح ملک تقسیم نہ ہو اور اس کے بارہ میں میں نے اپنے ذاتی خیالات کئی دفعہ ظاہر کئے تھے مگر کوئی الہام شائع نہیں کیا۔مگر جب یہ بات ظاہر ہو گئی کہ اب یہ اختلاف مٹائے نہیں مٹ سکتا تو میں نے اپنی رائے بدل لی اور پورے زور سے پاکستان کی تائید شروع کر دی۔چنانچہ تقسیم ملک سے پہلے ہی میں نے پاکستان کی تائید میں لکھنا شروع کر دیا جو "الفضل" اور دوسرے احمدی لٹریچر میں موجود ہے اور اس وقت جب احراری اس امر کی کوشش میں تھا کہ پاکستان کی "پ" بھی نہ لکھی جائے میں اس امر کی تائید میں تھا کہ پاکستان سب کا سب مکمل ہو جائے اور خدا تعالیٰ اسے عزت اور شان کے ساتھ قائم رکھے اگر مجھے کوئی الہام ہوا ہے تو یہی کہ اللہ تعالی اسلام کو عزت بخشے گا اور مسلمان ذلیل ہو کر دشمن کے سامنے نہیں گرے گا بلکہ قدم بقدم آگے بڑھے گا۔مشکلات ہونگی عارضی طور پر قدم پیچھے بھی ہٹیں گے لیکن انجام اچھا ہی ہو گا اسلام کے لئے اب فتح مقدر ہے۔محمد رسول الله علی معلوم ہوا کا جھنڈا اب بلند ہو کر رہے گا اور۔احراری یا دوسرے لوگ اسے نیچا نہیں کر سکیں گے۔انشاء اللہ۔الفضل ۹ - مارچ ۱۹۵۰ء) ۱۹۴۸ء میں حضور پشاور تشریف لے گئے اور منجملہ اور قبائلی سرداروں اور رہنماؤں کے ڈاکٹر خان صاحب اور خان عبد الغفار خان صاحب سے بھی ملاقات فرمائی۔اس ملاقات اور قیام پاکستان کے بعد ہندوؤں کی دشمنی اور ضد میں زیادتی کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔