سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 320
۳۲۰ رکھتے ہو وہ اپنے کاموں میں اپنے باپ دادوں کو دیکھتے ہیں تم نے اپنے کاموں میں آئندہ نسلوں کو مد نظر رکھنا ہو گا۔جو بنیاد تم قائم کرو گے آئندہ آنے والی نسلیں ایک حد تک اس بنیاد پر عمارت قائم کرنے پر مجبور ہونگی۔اگر تمہاری بنیاد ٹیڑھی ہو گی تو اس پر قائم کی گئی عمارت بھی ٹیڑھی ہوگی۔اسلام کا مشہور فلسفی شاعر کہتا ہے۔خشت اول چول نهد ثریا می روو i معمار سج دیوار سج پس بوجہ اس کے کہ تم پاکستان کی خشت اول ہو تمہیں اس بات کا بڑی احتیاط سے خیال رکھنا چاہئے کہ تمہارے طریق اور عمل میں کوئی کبھی نہ ہو کیونکہ اگر تمہارے طریق اور عمل میں کوئی کچھی ہوگی تو پاکستان کی عمارت ثریا تک ٹیڑھی چلتی چلی جائے گی۔بے شک یہ کام مشکل ہے لیکن اتنا ہی شاندار بھی ہے اگر تم اپنے نفسوں کو قربان کر کے پاکستان کی عمارت کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دو گے تو تمہارا نام اس عزت اور محبت سے لیا جائے گا جس کی مثال آئندہ آنے والے لوگوں میں نہیں پائی جائے گی۔پس میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنی منزل پر عزم و استقلال اور بلند حوصلہ سے قدم مار و قدم مارتے چلے جاؤ اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے قدم بڑھاتے چلے جاؤ کہ عالی ہمت نوجوانوں کی منزل اول بھی ہوتی ہے، دوم بھی ہوتی ہے منزل سوم بھی ہوتی ہے لیکن آخری منزل کوئی نہیں ہوا کرتی۔ایک منزل کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری وہ اختیار کرتے چلے جاتے ہیں وہ اپنے سفر کو ختم کرنا نہیں جانتے وہ ایک رخت سفر کو کندھے سے اتارنے میں اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں۔ان کی منزل کا پہلا دور اسی وقت ختم ہوتا ہے جب کہ وہ کامیاب و کامران ہو کر اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے حاضر ہوتے ہیں اور اپنی خدمت کی داد اس سے حاصل کرتے ہیں جو ایک ہی ہستی ہے جو کسی کی خدمت کی صحیح داد دے سکتی ہے۔پس اے خدائے واحد کے منتخب کردہ نوجوانو! اسلام کے بہادر سپاہیو! ملک کی امید کے مرکز و! قوم کے سپوتو ! آگے بڑھو کہ تمہارا خدا تمہارا دین تمہارا ملک اور تمہاری قوم و محبت اور امید کے مخلوط جذبات سے تمہارے مستقبل کو دیکھ رہے ہیں۔" الفضل ۱۴ اگست ۱۹۵۴ء صفحه ۲)