سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 303
اشتعال پیدا نہ ہونے دینی چاہئے۔(۴) عرب ممالک سے زیادہ سے زیادہ دوستانہ تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔(۵) عراق اور شام کے ساتھ ریل کے ذریعے پاکستان کا اتصال قائم کرنا ضروری ہے تا کہ ضرورت پر ان ممالک کے ذریعے سامان آسکے۔(1) برما اور سیلون کے مخصوص ملکی حالات اس قسم کے ہیں کہ ان کے ساتھ بہت آسانی سے گہرے سیاسی تعلقات قائم کئے جاسکتے ہیں اور یہ تعلقات مشرقی پاکستان کی مدد کے لئے بالخصوص بہت اہمیت رکھتے ہیں۔(۷) پین، ارجنٹائن، جاپان، آسٹریلیا، ابی سینیا اور ایسٹ افریقہ سے بھی دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ ممالک اپنے اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے بہت سے سیاسی فوائد کا موجب بن سکتے ہیں۔" الفضل ال۔جنوری ۱۹۴۸ء) استحکام پاکستان کے سلسلہ میں حضور کے بلند پایہ خطابوں میں آخری اور چھٹا خطاب دستورِ اسلامی کے بنیادی اہم موضوع پر تھا۔حضور نے فرمایا :۔" یہ سوال اس وقت بزور اٹھ رہا ہے کہ پاکستان کا دستور اسلامی ہو یا قومی؟ اس بحث میں حصہ لینے والوں کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آئین عام اور آئین اساسی میں فرق نہیں سمجھتے۔آئین اساسی سے مراد وہ قانون ہوتے ہیں جن کی حد بندیوں کے اندر حکومت اپنا کام چلانے کی مجاز ہوتی ہے اور جن کو وہ خود بھی نہیں توڑ سکتی۔بعض حکومتوں میں یہ آئین معین صورت میں اور لکھے ہوئے ہوتے ہیں اور بعض میں صرف سابق دستور کے مطابق کام چلایا جاتا ہے اور کوئی لکھا ہوا دستور موجود نہیں ہوتا۔یونائیٹیڈ سٹیٹس امریکہ مثال ہے ان حکومتوں کی جن کا دستور لکھا ہوا ہوتا ہے اور انگلستان مثال ہے ان حکومتوں کی جن کا دستور لکھا ہوا نہیں۔اس کی بنیاد تعامل سابق پر ہے۔اسلام نام ہے محمد رسول اللہ میں مل رہی ہے اور ان پر نازل ہونے والی وحی پر ایمان لانے کا۔پس اسلامی آئین اساسی کے معنی یہی ہوں گے کہ کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو قرآن کریم ، سنت اور رسول کریم میں والوں کی تعلیم کے خلاف ہو۔قرآن کریم ایک غیر مشتبہ