سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 302
۳۰۲ موجود ہے جس کی پاکستان کے بعض علاقوں پر نظر ہے لیکن وہاں کی رائے عامہ چونکہ ہمسایہ ممالک سے ہمدردی اور تعلقات بڑھانے کے حق میں ہے اس لئے یہ عصر سر دست پاکستان کی مخالفت کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔البتہ انڈین یونین سے ضرور خطرہ ہے کیونکہ ایک تو اسے لفظ پاکستان پر ہی غصہ ہے دوسرے مغربی پاکستان سے غیر مسلم قریبا نکل چکے ہیں لیکن ہندوستان میں ابھی چار کروڑ مسلمان باقی ہیں۔جنہیں انڈین یونین بطور یہ عمال استعمال کر سکتی ہے اس لئے بھی وہ آسانی سے پاکستان پر حملہ کرنے پر آمادہ ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں انڈین یونین کا ففتھ کالم موجود ہے لیکن انڈین یونین میں پاکستان کا فتہ کالم موجود نہیں۔اس موقع پر حضور نے بتایا۔کانگرس نے پنجاب میں بھی اور سرحد میں بھی بعض لوگوں کے ساتھ ساز باز کرلی ہے۔یہ لوگ ایک تنظیم اور سکیم کے ماتحت آہستہ آہستہ پاکستان کو ضعف پہنچانے کی کوششیں شروع کر چکے ہیں۔پاکستان کے عوام کو اور حکومت کو ان لوگوں سے خبردار رہنا چاہئے۔" حضور نے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں روس سے حملہ کے خطرہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا۔" روس ایک سوچی سمجھی سکیم کے ماتحت آہستہ آہستہ ہندوستان پر حملہ کرنے کیلئے میدان تیار کر رہا ہے۔روس کے خطرہ کی وجہ سے ہی انگریزوں نے ہندوستان کو آزاد کیا ہے۔اس لئے ہمیں روس کی طرف سے ہوشیار رہنا چاہئے۔حضور نے دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے سیاسی تعلقات کے سلسلے میں تیرہ اہم تجاویز پیش کرتے ہوئے مندرجہ ذیل امور پر خاص زور دیا۔(1) پاکستان کو اپنی طرف سے کوئی ایسی بات نہ کرنی چاہئے جس سے اس کے ہندوستان سے تعلقات خراب ہوں۔اسے اپنی طرف سے صلح کی ہر ممکن کو شش کرنی چاہئے لیکن یہ صلح با عزت ہو نہ کہ ہتھیار ڈالنے کے مترادف۔(۲) برطانیہ اور امریکہ سے بھی خوشگوار تعلقات رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے لیکن ان کی چالوں سے ہوشیار رہنا چاہئے۔(۳) روس کے متعلق بھی امن پسندانہ رویہ رکھنا چاہئے اور اپنی طرف سے کوئی وجہ