سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 301
۳۰۱ تجارتی بیڑے کی حفاظت کرنے والے چند چھوٹے جہاز موجود ہیں۔اگر اچھے افسر ہوں تو ان ہی سے لڑائی میں کسی حد تک کام لیا جا سکتا ہے۔بحری جہازوں میں کام کرنے کی ٹرینگ کے لئے کراچی میں دو سکول موجود ہیں ایک چھوٹے بچوں کے لئے اور ایک نوجوانوں کے لئے لیکن تارپیڈو کا کام سکھلانے اور مکینیکل ٹریننگ کے لئے کوئی سکول موجود نہیں ہے۔یہ سکول فوری طور پر قائم ہو جانے چاہئیں۔پاکستان کے پاس اچھی بندرگاه صرف کراچی کی ہے۔حضور نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کو Submarines (آبدوز کشتیاں) Minelayrs (سرنگ بچھانے والے) Mine Sweepers ( سرنگیں صاف کرنے والے)‘ Destroyers ( تباہ کن جہاز)‘ Air Craft Carriers (ہوائی جہاز بردار جہاز )۔حاصل کرنے کیلئے فوری طور پر قدم اٹھانا چاہئے۔زیادہ سے زیادہ کرو ڑ دو کروڑ روپیہ ان چیزوں پر خرچ کر کے ہم فوری طور پر کراچی کی بندرگاہ کو محفوظ کر سکتے ہیں۔اس سلسلے میں تجارتی بیڑہ قائم کر نا بھی بہت ضروری ہے۔کیونکہ اس وقت تمام بحری تجارتی کمپنیاں غیر مسلموں کے ہاتھ میں ہیں۔اس کی وجہ سے ہم جو سامان بھی باہر سے منگواتے ہیں وہ پہلے بمبئی جاتا ہے اور انڈین یونین مختلف ذرائع سے سامان پر قبضہ کرلیتی ہے۔حضور نے یہ تحریک بھی کی کہ مسلمان نوجوانوں کو بحری ملازمتیں کرنے اور سمندری سفر کرنے کا اپنے دلوں میں خاص شوق پیدا کرنا چاہئے۔پاکستان کی یونیورسٹیوں کو بحری ٹریننگ کے لئے کلبیں قائم کرنی چاہئیں کیونکہ در حقیقت بغیر سمندری طاقت کے صحیح معنوں میں آزادی مل ہی نہیں سکتی۔مسلمانوں نے ہی سب سے پہلے دنیا میں کھلے سمندر میں سفر کرنا شروع کیا تھا۔لیکن افسوس کہ اب سب سے زیادہ اس سلسلے میں غفلت بھی مسلمانوں پر ہی طاری ہے۔سیاست کے لحاظ سے پاکستان کے دفاع پر روشنی ڈالتے ہوئے حضور نے بتایا۔و ملکوں کے سیاسی تعلقات دو قسم کے ہوتے ہیں۔(۱) جبری۔یہ تعلقات بالعموم ہمسایہ ممالک سے ہوتے ہیں۔(۲) اختیاری۔پاکستان کے جبری تعلقات (اچھے یا برے) ہندوستان ، افغانستان ایران برما عرب اور برطانیہ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ان میں سے ایران، عرب اور برما سے پاکستان کے تعلقات اچھے ہیں۔افغانستان میں گو ایک عنصر