سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 295
۲۹۵ حالت مشتبہ ہو جانے کی وجہ سے اب پاکستان کو نہیں مل سکے گی۔صرف مری اور ہزارہ سے کچھ لکڑی پاکستان کو مل سکے گی مگر وہ اس کی ضرورتوں کے لئے کافی نہیں۔اس لکڑی کے مہیا کرنے کے لئے پاکستان کو کچھ اور علاقے تلاش کرنے ہوں گے۔پاکستان کے ملحقہ علاقوں میں سے چترال اور بالائے سوات کے علاقہ میں یہ لکڑیاں بڑی کثرت سے پائی جاتی ہیں اور بعض بعض حصوں میں تو ہزار ہزار سال کے پرانے درخت پائے جاتے ہیں جن کی قیمت عمارتی لحاظ سے بہت ہی زیادہ ہوتی ہے مگر مشکل یہ ہے کہ ان علاقوں سے لکڑی پاکستان میں پہنچائی نہیں جا سکتی۔چترال سے صرف ایک دریائی راستہ پاکستان کی طرف آتا ہے اور وہ حکومت کابل میں سے گذرتا ہے۔اس کے سوا کوئی دریائی راستہ نہیں۔خشکی کے راستے ان لکڑیوں کا پہنچانا بالکل ناممکن ہے۔دریائے کابل کے ذریعہ سے اس لکڑی کے لانے میں بہت سی سیاسی اور اقتصادی دقتیں ہوں گی۔اگر ریاست کابل اجازت بھی دے دے تو لکڑی کا محفوظ پہنچنا نہایت ہی دشوار ہو گا۔اسی طرح بالائے سوات کی لکڑی کا پہنچنا اور بھی زیادہ مشکل ہے۔مگر بہر حال فوری ضرورت کو پورا کرنے کے لئے پاکستان کو کچھ معاہدوں کے ذریعہ سے اس وقت کو دور کرنا چاہئے اور ساتھ ہی اس بات کی سروے کرانی چاہئے کہ کچھ پہاڑی کو ملا کر کیا کوئی ایسا نالا نہیں نکالا جا سکتا جو کہ چترال اور بالائے سوات سے براہ راست پاکستان میں داخل کیا جا سکے۔اگر ایسا ہو سکے تو یہ ضرورت پوری ہو جائے گی۔لیکن اس کے علاوہ جنگلات کے ماہروں کو اس بات کے لئے ہدایت ملنی چاہئے کہ وہ درختوں کی مختلف اقسام پر غور کر کے ایسی اقسام معلوم کریں جو پاکستان کی آب و ہوا میں اگائے جاسکیں اور عمارتوں کی تعمیر اور جہازوں کی ساخت اور ریلوں کی پٹریاں بنانے کے کام میں استعمال کئے جا سکیں۔لکڑی کی ایک قسم بہت ہی نرم ہوتی ہے۔ان لکڑیوں سے دیا سلائی کی نرم لکڑی تیلیاں بنائی جاتی ہیں۔اس وقت تک یہ لکڑیاں انڈیمان اور نکو بار سے ہیں۔یہ نکوبار آتی تھیں۔مگر دریافت سے معلوم ہوا ہے کہ بلوچستان میں بھی ایک اس قسم کا درخت پایا جاتا ہے جس کی لکڑی سے دیا سلائی کی تیلیاں بن سکتی ہیں اور یہ درخت اتنی مقدار میں پائے جاتے ہیں کہ اگر ان سے دیا سلائی کی تیلیاں بنائی جائیں تو نہ صرف پاکستان بلکہ سارے ہندوستان کی ضرورتیں اس سے پوری ہو سکتی ہیں۔ضرورت ہے کہ ایسا