سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 296 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 296

۲۹۶ کارخانہ بنایا جائے جو بلوچستان میں یہ تیلیاں بنا کر دیا سلائی کے کارخانوں کے پاس فروخت کرے۔اور یہ صنعت جس کی سب سے بڑی مشکل ان تیلیوں کا مہیا ہونا ہے پاکستان میں فروغ پاسکے۔لکڑی کی کمی کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان میں فور پلاسٹک کے کار خانے جاری کرنے کی کوشش کرنی چاہئے مگر چونکہ یہ سوال میری تقریر کے زراعتی حصہ کے ساتھ متعلق ہے میں اس کا ذکر آگے چل کر کروں گا۔ہیں۔نباتی دولت کا ایک بڑا جزو جڑی بوٹیاں بھی ہوتی ہیں۔شمالی (علاقہ کی) جڑی بوٹیاں جڑی بوٹیاں کشمیر، چنبہ ، چترال صوبہ سرحد اور بلوچستان میں ملتی کشمیر کا سوال مشتبہ ہے اور چنبہ قطعی طور پر انڈین یونین میں شامل ہو چکا ہے اس لئے پاکستان میں جڑی بوٹیاں چترال صوبہ سرحد اور بلوچستان میں سے جمع کی جاسکتی ہیں اور پاکستان کی خوش قسمتی سے ان تینوں علاقوں میں کافی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں بلکہ بعض جڑی بوٹیاں ایسی نادر ہیں کہ دنیا کے بعض دوسرے حصوں میں نہیں ملتیں۔بلوچستان کی جڑی بوٹیوں کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ ان میں الکلائیڈ جو کہ دواؤں کا فعال جزو ہوتا ہے دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ پائے جاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بلوچستان میں بارشیں کم ہوتی ہیں۔جڑی بوٹیوں سے بہت سی ادویہ اور کیمیاوی اجزاء تیار کئے جاتے ہیں۔ابھی تک ہندوستان کی جڑی بوٹیاں کامل سائنٹفک تحقیقات سے محروم ہیں اور ہزاروں ہزار مفید ادویہ اور کیمیاوی اجزاء ان میں مخفی پڑے ہوئے ہیں۔یورپ کے لوگ قدرتی طور پر ان ادویہ کی تحقیق کرتے ہیں جو ان کے ملکوں کی جڑی بوٹیوں سے بنائی جاسکتی ہیں یا جو آسانی سے ان کے قبضہ میں آسکتی ہیں تاکہ ان کا تجارتی نفع انہیں کو ملے۔اب پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور اس کے لئے موقع ہے کہ اپنی نباتی دولت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے۔اگر ایک محکمہ بنا دیا جائے جو جڑی بوٹیوں کے الکلائیڈ اور دوسرے کیمیاوی اجزاء دریافت کرے تو تھوڑے ہی عرصہ میں بیسیوں کئی دوائیں پاکستان میں ایجاد ہو جائیں گی جو دنیا کی ساری منڈیوں میں اچھی قیمت پر بک سکیں گی۔حکیم اجمل خان صاحب مرحوم کو اس کا خیال آیا تھا اور انہوں نے طبیہ کالج دہلی کے ساتھ ایک چھوٹی سی لیبارٹری اس کام کے لئے مقرر کر دی تھی۔مشہور ہندوستانی سائنس دان چوہدری صدیق الزمان صاحب اس کے انچارج مقرر