سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 263 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 263

۲۶۳ الفاظ میں یہ تھا کہ نہ تو ہندو ذہنیت تبدیل ہوئی اور نہ ہی مسلمان آنکھیں کھول کر یہ دیکھنے کے قابل ہوئے کہ وہ کس طرح قومی ترقی کیلئے قابل اعتماد ثابت ہو سکتے ہیں۔حضرت امام جماعت احمدیہ کے ایماء پر احمدیہ مسجد لندن کے اس زمانہ کے امام حضرت مولانا عبدالرحیم درد صاحب نے آپ کو واپس آکر مسلمانوں کی قیادت کرنے کیلئے آمادہ کرنے کی کوشش کی۔قائد اعظم بڑے مصمم ارادے کے مالک تھے وہ نہ تو جلدی میں کوئی فیصلہ کرتے تھے اور نہ ہی اپنے فیصلہ کو تبدیل کرنے کے عادی تھے اس لئے مولانا در و صاحب کیلئے یہ کوئی آسان کام نہ تھا تا ہم ان کی مسلسل کوشش اور حضرت مصلح موعود کی توجہ کی برکت سے قائد اعظم نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا اور اپنی سیاسی زندگی کے اس نئے دور کا آغاز احمد یہ مسجد لندن میں ”ہندوستان کا مستقبل" کے عنوان پر تقریر کر کے کیا۔آپ کی اس تقریر کا پہلا فقرہ ہی یہ تھا کہ :۔"The eloquent persuation of the Imam let me no escape" (امام صاحب کی مسلسل و مدلل کوشش نے میرے لئے اور کوئی رستہ باقی نہیں رہنے دیا) اس امر کی تائید تحریک پاکستان کے ممتاز رکن مشہور مورخ اور صحافی جناب محمد شفیع (جو مش کے نام سے زیادہ مشہور ہوئے) کے مندرجہ ذیل بیان سے بھی ہوتی ہے۔وہ لکھتے ہیں: It was Mr۔Liaquat Ali Khan and Maulana Abdur of London Mosque, who Imam an Dard Rahim persuaded Mr۔M۔A۔Jinah to change his mind and return home to play his role in the national politics۔(Pakistan Times 11 Sept۔1981) مسٹر لیاقت علی خان اور امام مسجد لندن مولانا عبد الرحیم درد ہی تھے جنہوں نے مسٹر محمد علی جناح کو باصرار اس امر پر آمادہ کیا کہ وہ اپنے وطن واپس آکر سیاست قومی میں اپنا حصہ ادا کریں) قائد اعظم کے متعلق حضور نے ۱۹۲۷ء میں اپنا تاثر بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا۔میں مسٹر جناح کو ایک بہت زیرک ، قابل اور مخلص خادم قوم سمجھتا ہوں اور ان سے ملکر مجھے بہت خوشی ہوئی۔میرے نزدیک وہ ان چند لوگوں میں سے ہیں جنہیں اپنے ذاتی عروج کا اس قدر خیال نہیں جس قدر کہ قومی ترقی کا ہے۔" ( مسلمانان ہند کے امتحان کا وقت صفحہ (۹) اسی وجہ سے حضور ہندوستان کی سیاست اور مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے انہیں انگلینڈ سے واپس بلانا ضروری سمجھتے تھے۔