سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 246
ہے کیونکہ اس سے اس زمانہ کے سیاسی اتار چڑھاؤ ، ہندوؤں کی اسلام دشمنی اور حضور کے اس غیر معمولی کردار کا کہ آپ نے عام اسلامی مفاد اور حق و انصاف کی خاطر کسی خطرے اور نقصان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مطالبہ پاکستان اور حق و انصاف کی بھر پور حمایت فرمائی اظہار ہوتا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔" آج مجھے ایک عزیز نے بتایا کہ دلّی کے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ احمدی اس وقت تو پاکستان کی حمایت کرتے ہیں مگر ان کو وہ وقت بھول گیا جبکہ ان کے ساتھ دوسرے مسلمانوں نے بُرے سلوک کئے تھے۔جب پاکستان بن جائے گا تو انکے ساتھ مسلمان پھر وہی سلوک کریں گے جو کابل میں ان کے ساتھ ہوا تھا اور اس وقت احمدی کہیں گے کہ ہمیں ہندوستان میں شامل کر لو۔کھنے والے کی اس بات کو کئی پہلوؤں سے دیکھا جا سکتا ہے اس کا ایک پہلو تو یہی ہے کہ جب پاکستان بن جائے گا تو ہمارے ساتھ مسلمانوں کی طرف سے وہی سلوک ہو گا جو آج سے کچھ عرصہ پیشتر افغانستان میں ہوا تھا۔فرض کرو ایسا ہی ہو جائے پاکستان بھی بن جائے اور ہمارے ساتھ وہی سلوک روا بھی رکھا جائے لیکن سوال تو یہ ہے کہ ایک دیندار جماعت جس کی بنیاد ہی مذہب اخلاق اور انصاف پر ہے کیا وہ اس کے متعلق اس نقطہ نگاہ سے فیصلہ کرے گی کہ میرا اس میں فائدہ ہے یا وہ اس نقطہ نگاہ سے فیصلہ کرے گی کہ اس امر میں دوسرے کا حق کیا ہے۔یقینا وہ ایسے معاملہ میں مؤخر الذکر نقطہ نگاہ سے ہی فیصلہ کرے گی۔پس قطع نظر اس کے مسلم لیگ والے پاکستان بننے کے بعد ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔وہ ہمارے ساتھ وہی کابل والا سلوک کریں گے یا اس سے بھی بد تر معاملہ کریں گے۔اس وقت سوال یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے جھگڑے میں حق پر کون ہے اور ناحق پر کون۔آخر یہ بات آج کی تو ہے نہیں یہ تو ایک لمبا اور پرانا جھگڑا ہے۔جو بیسیوں سال سے ان کے درمیان چلا آتا ہے۔"ہم نے بار بار ہندوؤں کو توجہ دلائی کہ وہ مسلمانوں کے حقوق کو تلف کر رہے ہیں یہ امر ٹھیک نہیں ہے ، ہم نے بار بار ہندو کو متنبہ کیا کہ مسلمانوں کے حقوق کو اس طرح نظر انداز کر دیتا بعید از انصاف ہے اور ہم نے بار بار ہندو لیڈروں کو آگاہ کیا کہ یہ حق تلفی اور نا انصافی آخر رنگ لائے گی مگر افسوس کہ ہمارے توجہ دلانے ہمارے انتباہ