سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 247 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 247

۲۴۷ اور ہمارے ان کو آگاہ کرنے کا نتیجہ کبھی کچھ نہ نکلا۔ہندو سختی سے اپنے اس عمل پر قائم رہے ، انہوں نے اکثریت کے گھمنڈ میں مسلمانوں کے حقوق کا گلا گھونٹا انہوں نے حکومت کے غرور میں اقلیت کی گردنوں پر چھری چلائی اور انہوں نے تعصب اور ہندووانہ ذہنیت سے کام لیتے ہوئے ہمیشہ مسلمانوں کے جذبات کا خون کیا اور ہندو لیڈروں کو بار بار توجہ دلانے کے باوجود نتیجہ ہمیشہ صفر ہی رہا۔ایک مسلمان جب کسی ملازمت کیلئے درخواست دیتا تو چاہے وہ کتنا ہی لائق کیوں نہ ہو تا اس کی درخواست پر اس لئے غور نہ کیا جاتا کہ وہ مسلمان ہے اور اس کے مقابلہ میں ہندو چاہے کتنا ہی نالائق ہو تا اس کو ملازمت میں لے لیا جاتا اس طرح گورنمنٹ کے تمام ٹھیکے مسلمانوں کی لیاقت، قابلیت اور اہلیت کو نظر انداز کرتے ہوئے ہندوؤں کو دے دیئے جاتے۔تجارتی کاموں میں جہاں حکومت کا دخل ہو تا ہندوؤں کو ترجیح دی جاتی سوائے قادیان کے کہ یہاں بھی ہم نے کافی کوشش کر کے اپنا یہ حق حاصل کیا ہے۔باقی تمام جگہوں میں مسلمانوں کے حقوق کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کے دلوں میں ہندوؤں کے خلاف ان کی فرقہ وارانہ زہنیت کی وجہ سے نفرت پیدا ہوتی رہی اور آخر یہ حالت ہو گئی جو آج سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔یہ صورت کس نے پیدا کی؟ جس نے یہ صورت حالات پیدا کی وہی موجودہ حالات کا زمہ دار بھی ہے۔یہ سب کچھ ہندوؤں کے اپنے ہی ہاتھوں کا کیا ہوا ہے اور یہ فسادات کا نتناور درخت وہی ہے جس کا بیج ہندوؤں نے بویا تھا اور اسے آج تک پانی دیتے رہے اور آج جب کہ اس درخت کی شاخیں سارے ہندوستان میں پھیل چکی ہیں ہندوؤں نے شور مچانا شروع کر دیا ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ ہندوؤں کو اس وقت اس بات کا کیوں خیال نہ آیا کہ ہم مسلمانوں کے حقوق تلف کر رہے ہیں اور ہر محکمہ میں اور ہر شعبہ میں ان کے ساتھ بے انصافی کر رہے ہیں۔مجھے پچیس سال شور مچاتے اور ہندوؤں کو توجہ دلاتے ہو گئے ہیں کہ تمہارا یہ طریق آخر رنگ لائے بغیر نہ رہے گا لیکن افسوس کہ میری آواز پر کسی نے کان نہ دھرا اور اپنی من مانی کرتے رہے۔یہاں تک کہ جب ہمارا احرار سے جھگڑا تھا تو ہندوؤں نے احرار کی پیٹھ ٹھونکی اور حتی الوسع ان کی امداد کرتے رہے۔ان سے کوئی پوچھے کہ جھگڑا تو ہمارے اور احرار کے درمیان مذہبی