سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 225
۲۲۵ کر کے تھک گئے ہیں لا يَؤُدُهُ حِفْظُهُمَا تو خدا تعالیٰ کی شان ہے۔انگریزوں نے زبانی نہیں تو عملی طور پر کہہ دیا ہے کہ ہم تھک گئے ہیں۔ہندوستانی ہندوستان کی حکومت سنبھال لیں۔ان حالات میں نہایت ہی نازک وقت آیا ہوا ہے۔ایسا نازک کہ اگر ذرا کو تاہی کی گئی تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ایک ایسی منتظم قوم جسے سالہا سال سے بتایا جا رہا ہے کہ مسلمان تمہارے دشمن ہیں وہ مسلمانوں کے خلاف کھڑی ہو جائیں گی۔ہندو راج کے منصوبے کتاب میں بڑے بڑے ہندو لیڈروں کے بہت سے اس قسم کے بیانات درج کر دیئے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو کچل کر رکھ دو۔یا اپنے اندر شامل کر لو اور ہندوستان میں ہندو راج قائم کر لو۔ان حالات میں نہایت ہی نازک مستقبل نظر آتا ہے جس سے ڈر آتا ہے۔ان حالات میں مسلمان ہندوستان کے متعلق جس قدر خطرات ہو سکتے ہیں ان کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ایک طرف مسلمانوں کی پراگندگی اور آپس کے لڑائی جھگڑے اور دوسری طرف ہندوؤں کی ان کے خلاف تنظیم کوئی معمولی خطرہ کی بات نہیں۔(الفضل ۲۷۔مئی ۱۹۴۶ء) اس خطرہ کے پیش نظر آزادی کے آخری مراحل میں آپ نے دعا کی طرف غیر معمولی توجہ دیتے ہوئے خود بھی روزے رکھ کر دعائیں کیں اور جماعت کو بھی اس امر کی زوردار تحریک فرمائی اور حصول آزادی کی کوشش کرنے والے ہندو مسلم رہنماؤں سے اپنے رابطے بڑھا دیئے اور ہر مرحله پر مخلصانہ بروقت مشوروں سے رہنمائی فرماتے رہے۔آپ کا ۱۹۴۶ء کا سفر دہلی جس کا آگے ذکر آئے گا اس سلسلہ کی ایک کامیاب کوشش تھی۔حضرت فضل عمر کی سیاسی خدمات کی ایک جھلک سوانح جلد دوم میں دیکھی جا سکتی ہے۔حضور نے اپنی کامیاب زندگی کا مطمح نظر اور مائو ” خدمت اسلام " قرار دے رکھا تھا۔آپ کی تمام کوششیں اور توانائیاں اسی مقصد کی خاطر صرف ہوتی تھیں۔عام مروج اور معروف معنوں میں آپ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا البتہ بنی نوع انسان کی خدمت کا کوئی بھی موقع ہو تا یا مسلمانوں کے مفاد کی حفاظت کا سوال ہو تا تو اس وقت آپ صحیح اور بروقت رہنمائی اپنا فرض سمجھتے آپ نے مختلف سیاسی امور کے متعلق قریباً ۳۵ کتب تصنیف فرما ئیں ، سیاسی مسائل کے