سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 219
٢١٩ ہو اور جو اسلامی دنیا کے لئے اطمینان کا موجب ہو۔وائسرے نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ :۔آپ لوگوں نے اپنے ایڈریس میں لیجسلیچر (Legislature ) مجلس واضع قوانین میں مسلمانوں کی کافی نمائندگی کی ضرورت اور سرکاری ملازمتوں میں پورا پورا حصہ دیا جانے کے متعلق ذکر کیا ہے موجودہ وقت میں جو نظام حکومت جاری ہے بالفعل اس میں تبدیلی کرنے کا حکومت کا کوئی منشاء نہیں اور آئندہ بھی حکومت کوئی تبدیلی ان جماعتوں کے مشورے کے بغیر جن پر اثر پڑ سکتا ہے کبھی نہیں کرے گے۔مسلمانوں کی سرکاری ملازمتوں پر تعیناتی کے متعلق یہ زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ مسلمان اپنی تعداد اور سیاسی اہمیت کے حقوق کی نمائندگی کے دعوئی کو اپنی قابلیت کے ساتھ مضبوط کریں۔حکومت کو شش کر رہی ہے کہ بعض ملازمتوں کو روکے رکھے تاکہ ان کے ذریعہ سے اس تفاوت کو پورا کرے جو موجودہ وقت میں ہے تا ہر جماعت کو پبلک سروس کے لئے مناسب موقع حاصل رہے۔" (الفضل ۸۔مارچ ۱۹۲۷ء) ہندو اکثریت کے مفاد کی حفاظت و بالا دستی کے قیام کیلئے نہرو رپورٹ کے نام سے ایک دستاویز سامنے آچکی تھی جسے پیش کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ یہ تمام ہندوستانیوں کی طرف سے ہے۔اس موقع پر تساہل و لا پرواہی مسلمانوں کو شدید نقصان اور تباہی کی طرف دھکیل سکتی تھی۔حضور بروقت اختباہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔اگر مسلمانوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ اس فیصلہ کو جو آج سوراج کے متعلق ہو گا بد لنا ان کی طاقت سے باہر ہو گا تو پھر وہ کبھی جلدی نہ کریں گے اور اس ہزاروں خطرات سے پر قدم کے اٹھانے سے پہلے وہ لاکھوں قسم کے سوالات کو حل کرنا چاہیں گے اور بیسیوں راستے واپسی کے سوچیں گے مسلمان یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ صرف ایک تجربہ ہو گا۔اگر اس میں یہ نقص نظر آئے گا تو ہم اور تدبیر سوچیں گے۔لیکن میں انہیں خوب اچھی طرح اور واضح کر کے سمجھا دینا چاہتا ہوں کہ معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے۔آج جو قدم وہ اٹھا ئیں گے اگر اس میں غلطی ہو گی تو الٹے پاؤں لوٹنا ان کے اختیار میں نہیں ہو گا بلکہ جن امور کا مطالبہ انہوں نے کیا ہے اگر وہ آج انہیں منوانا چاہیں تو بہت زیادہ آسان ہے لیکن سوراج کے ملنے کے بعد ان مطالبات کا منوانا بالکل ناممکن