سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 216 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 216

جد وجہد آزادی میں ہندوؤں کی نسبت مسلمانوں کی کوششیں اور ایک نہایت مفید اقدام قربانیاں کسی طرح بھی کم نہ تھیں تاہم آل انڈیا کانگریس بہت منتظم طریق پر کام کر رہی تھی۔ہندوستان میں بہت وسیع پیمانہ پر اور بہت موثر انداز میں پراپیگنڈہ کے علاوہ بہت سوچے سمجھے طریق سے انگلینڈ میں بھی انگریزوں سے بہت اچھے تعلقات استوار کئے ہوئے تھے اسی طرح بہت سے ارکان پارلیمنٹ اور رائے عامہ کے نمائندگان سے ان کے دوستی کے تعلقات تھے اس کے بالمقابل مسلم مؤقف کو مؤثر رنگ میں پیش کرنے کیلئے کوئی باقاعدہ طریق اور ذریعہ نہ تھا۔اس کمی کو پورا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت فضل عمر فرماتے ہیں۔”ہمارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم انگلستان کی رائے پر بھی اثر ڈالنے کی کوشش کریں۔مجھے نہایت افسوس ہے کہ ہندو انتہاء پسند با وجود اپنے عدم تعاون کے دعووں اور سٹیجوں پر کھڑے ہو کر گورنمنٹ کو گالیاں دینے کے برطانوی پارلیمنٹ کے ممبروں کو اپنے زیر اثر لانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔جس سے نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس وقت دو تین درجن پارلیمنٹ کے ممبر انتہاء پسند ہندوؤں کے گہرے دوست ہیں لیکن اس کے مقابلہ میں مسلمانوں سے حقیقی رنگ میں ہمدردی رکھنے والا ایک بھی ممبر نہیں۔اس طرح انگریزی پریس کے ایک حصہ پر بھی ہندو اثر رکھتے ہیں لیکن مسلمانوں نے اس طرف توجہ نہ کی اور اس وجہ سے انگلستان کے سیاسی حلقوں میں ہندوؤں کی آواز کو جو اثر حاصل ہے مسلمانوں کی آواز اس سے محروم ہے۔" الفضل ۱۲ نومبر ۱۹۲۸ء) اس بروقت اور ضروری مشورہ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے مسلمانوں کے بعض مخلص رہنماؤں کو بھی اس طرف توجہ ہوئی۔چنانچہ مولوی محمد یعقوب صاحب اور ڈاکٹر شفاعت احمد خان صاحب نے جو اس زمانہ میں مسلم رہنماؤں میں بہت نمایاں مقام رکھتے تھے یہ تجویز پیش کی کہ انگلستان میں ایک ایسا وفد بھیجوایا جائے جو وہاں جا کر ان کے حقوق کے سلسلہ میں پراپیگنڈہ کرے اور وہاں اپنے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرے۔(الفضل ۲۵۔جون ۱۹۲۹ء) اس تجویز کا عملاً کوئی مفید نتیجہ تو نظر نہیں آتا البتہ حضرت امام جماعت احمدیہ نے اپنے ذرائع سے اس خوفناک کمی کے ازالہ کی بھر پور کوشش فرمائی۔جماعت انگلستان کے امیرو مبلغ ہر ضروری اور اہم موقع پر حضور کی ہدایات کے مطابق ارکان اسمبلی اور پریس کے نمائندگان سے