سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 211
۲۱۱ چھوت چھات کی بدولت ہی ہے اور اگر آپ کو اس پر یقین نہ ہو تو آج ہی چھوت چھات کو اڑا کر دیکھ لیجئے آپ کو حقیقت معلوم ہو جائے گی۔" مسافر آگرہ جلد ۶ نمبر ۲۲ بحوالہ ہندو راج کے منصوبے صفحہ ۱۹۳) تجارت کے اس دام ہمرنگ زمین سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندو سرزمین ہندوستان سے اسلام کا نام و نشان تک مٹا دینے کے درپے تھے ایک مشہور ہندو لیڈر نے ہندو ذہنیت اور منصوبوں کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا۔" جب ہندو سنگھٹن کی طاقت سے سو راجیہ لینے کا وقت قریب آئے گا تو ہماری جو پالیسی) عیسائیوں اور مسلمانوں کی طرف سے ہوگی اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔اس وقت باہمی سمجھوتہ وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ ہندو مہاسبھا اپنے فیصلہ کا اعلان کرے گی کہ نئی ہندو ریاست میں مسلمان اور عیسائیوں کے کیا حقوق و فرائض ہوں گے اور ان کی شدھی کی کیا شرائط ہوں گی۔es یاد رہے کہ یہ رہنما اپنی اس تقریر میں یہ بھی بیان کر چکے ہیں کہ :۔" مسلمان تو محض جملہ معترضہ ہیں ان کا یہی مستقبل ہے کہ آہستہ آہستہ شدھی کے ذریعہ دوبارہ ہندو قوم کے اندر شامل ہو جائیں۔" اور یہ بھی کہ "ہر بچے ہندو کی یہ خواہش ہونی چاہئے کہ اپنے دیش کو اسلام اور عیسائیت سے پاک کر دے۔" ( ملاپ ۲۵۔مئی ۱۹۲۵ء) حضرت فضل عمر نے ۱۹۲۶ء میں قوم کے سامنے ایک ایسی تجویز پیش فرمائی ایک انقلابی اقدام جو مسلمانوں کو ہندوؤں کی خوفناک اقتصادی غلامی سے نجات دلا کر انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے والی بلکہ اقتصادی میدان میں ان کے برابر کر دینے والی تھی۔ہندوؤں نے ذات پات کی تفریق اور چھوت چھات کی رسم کی وجہ سے نیچی ذات کے ہندوؤں اور دوسری اقوام کو کچھ اس قسم کی اقتصادی غلامی کے بھنور میں پھنسار کھا تھا کہ جس سے نکلنا بظاہر ناممکن تھا بلکہ ان کی معاشرتی اقدار اور تہذیب و تمدن میں جو ہندوؤں نے اپنی عددی اکثریت اور بہتر منصوبہ بندی کی وجہ سے قائم کر رکھا تھا اس بھنور سے بچنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے والا اس کی اتھاہ گہرائیوں میں اور زیادہ غرق ہو تا چلا جاتا تھا۔ہندوستان کی اقلیتیں اس صورت حال کو خدائی تقدیر سمجھ کر نکھیں بند کر کے اسی طریق پر چلتے جانے میں ہی عافیت سمجھتی تھیں جو اکثریت نے ان کے لئے