سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 204 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 204

۲۰۴ اٹھارہ فیصدی سکھ مشرقی پنجاب میں ہو گئے ہیں۔اگر ہندو جو تعداد میں اول نمبر پر ہیں مسلمانوں کی طرح اپنے حق سے سکھوں کو دیں تو سکھوں کو نئے صوبہ میں چھبیس فیصدی حق ملنا چاہئے۔گو سکھ پرانے انتظام پر خوش نہ تھے اس وجہ سے انہوں نے صوبہ تقسیم کروایا ہے اس لئے انہیں ہندوؤں سے تیس فیصدی ملے تب وہ دنیا کو کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو پر انے پنجاب سے ہم زیادہ فائدہ میں رہے ہیں۔مسلمانوں نے ہمیں ڈیوڑھا حق دیا تھا اب ہندوؤں نے اپنے حق سے کاٹ کر ہمیں پونے دو گنا دے دیا ہے اس لئے ہمارا ہوارہ پر زور دینا زیادہ درست تھا۔لیکن اگر ایسا نہ ہوا اور ہندوؤں نے اپنے حصہ سے اس نسبت سے بھی سکھوں کو نہ دیا جس نسبت سے پرانے پنجاب میں مسلمانوں نے سکھوں کو دیا تھا تو سکھ قوم لازما گھاٹے میں رہے گی۔نئے صوبہ میں اٹھارہ فیصدی سکھ ہونگے ، بتیس فیصدی مسلمان پچاس فیصدی ہندو۔اگر ہندو اس نسبت سے اپنا حق سکھوں کو دیں جس طرح مسلمانوں نے پنجاب میں دیا تھا تو سکھوں کو ۲۶ فیصد حق مل جائے گا اور نمائندگی کی شکل یوں ہوگی کہ ۳۲ فیصدی مسلمان ۲۶۴ فیصدی سکھ ۴۳۴ فیصدی ہندو۔لیکن اول تو ایسا کوئی وعدہ ہندوؤں نے سکھوں سے اب تک نہیں کیا۔وہ غالبا یہ کوشش کریں گے کہ مسلمانوں کے حق سے سکھوں کو دینا چاہئے۔لیکن سکھوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس سے فتنہ کا دروازہ کھلے گا جب مسلمان زیادہ تھے انہوں نے اپنے حصہ سے سکھوں کو دیا اب ہندو زیادہ ہیں اب انہیں اپنے حصہ سے سکھوں کو دینا چاہئے ور نہ تعلقات ناخوشگوار ہو جائیں گے۔" فرض کرد کہ ہندو سکھوں کو اپنی نیابت کے حق سے دے بھی دیں جتنا انہیں مسلمانوں نے اپنے حق سے دیا ہوا تھا تو پھر بھی سکھ صاحبان کو ان امور پر غور کرنا چاہئے۔تمام سکھ امراء منٹگمری لائل پور (فیصل آباد) اور لاہور میں بستے ہیں۔اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ لائلپور ، منٹگمری اور لاہور کے سکھ زمینداروں کو ملا کر فی سکھ آٹھ ایکڑ کی ملکیت بنتی ہے۔لیکن لدھیانہ ہوشیار پور فیروز پور امر تسر کے سکھ ملکیت کے لحاظ سے ایک ایکڑ فی سکھ ملکیت بنتی ہے کیونکہ لدھیانہ اور جالندھر میں سکھوں کی ملکیت بہت کم ہے اور اس وجہ سے وہ زیادہ تر مزدور پیشہ اور فوجی ملازم ہیں۔یا ملک سے باہر جا کر غیر ممالک میں کمائی کرتے ہیں۔