سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 183
فرمائی جس کے مطابق سیاسی لحاظ سے مسلمان یکجان و متحد ہو سکتے تھے۔آپ نے فرمایا :۔سیاسی معاملات میں جب تک اختلاف کی بنیاد مذہب کی بجائے سیاست پر نہ رکھی جائے گی اس وقت تک ہر گز امن نہیں ہو سکتا پس ضروری ہے کہ مسلم لیگ کے دروازے ہر ایک اس فرقہ کیلئے کھلے ہوں جو اپنے آپ کو مسلم کہتا ہے خواہ اس کو دوسرے فرقے کے لوگ مذہبی نقطہ نگاہ سے کافرہی سمجھتے ہوں اور اس کے کفر پر تمام علماء کی مہریں ثبت ہوں۔" اسی طرح آپ نے فرمایا:۔(اساس الاتحاد صفحه ۴) "سیاسی نقطہ خیال کے مطابق ہر شخص جو رسول کریم میں اللہ پر ایمان لانے کا مدعی ہے اور آپ کی شریعت کو منسوخ قرار نہیں دیتا اور کسی جدید شریعت کا قائل نہیں لفظ مسلم کے دائرہ کے اندر آجاتا ہے"۔(اساس الاتحاد صفحه (۴) اس تعریف کو مزید قابل فہم اور قابل عمل بنانے کیلئے حضور نے یہی بات ایک اور پہلو سے بیان کرتے ہوئے فرمایا :۔اسلام کی اس زمانے میں دو ہی تعریفیں ہیں۔ایک مذہبی اور ایک سیاسی۔مذہبی تعریف ہر ایک شخص کے اختیار میں ہے وہ جو چاہے تعریف کرے۔دوسری تعریف سیاسی ہے اور یہ تعریف کوئی فرقہ خود نہیں کر سکتا بلکہ یہ تعریف اسلام کا لفظا و معنا انکار کرنے والے لوگ کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں۔سیاسی طور پر کون لوگ مسلمان ہیں۔اس کا جواب صرف ہندو اور عیسائی اور سکھ دے سکتے ہیں۔جن سے مسلمانوں کا سیاسی واسطہ پڑتا ہے۔اگر ایک جماعت کو دیگر مذاہب کے پیرو مسلمان کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں تو ایک لاکھ مولویوں کے فتاوی بھی اس کو سیاست اسلامیہ سے باہر نہیں نکال سکتے۔سنی خواہ شیعوں کو اور شیعہ خواہ سُنیوں کو کافر کہیں۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی معاملات میں ہندو شیعوں اور منیوں سے کیا معاملہ کریں گے کیا سُنیوں کے شیعوں کو کافر کہنے سے ہندو لوگ سُنیوں اور شیعوں سے الگ الگ قسم کا معاملہ کریں گے نہیں ! وہ جو کارروائی ایک قوم کے خلاف کریں گے وہی دوسری کے خلاف بھی کریں گے۔پس سیاست میں ان کے مفاد ایک ہیں جن پر اسلام کا لفظ حاوی ہے۔اگر مسلمان اس نقطہ کو نہیں سمجھیں گے تو ان کو ایک ایک کر کے دوسری قومیں کھا جائیں گی