سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 165
۱۶۵ ہو جائے تو اسلامی عظمت اور شوکت کا ذریعہ بن سکتا ہے اور اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے آج اس امر کے متعلق خطبہ دیا ہے تاکہ ہماری جماعت جو اندرون ہندیا بیرون ہند میں ہے اس بات کو ہر وقت مد نظر رکھے اور ہمارے مبلغ جو مختلف ممالک میں ہیں اس آواز کو بلند کرنے کی کوشش کریں اور مختلف رسالوں اور اخباروں میں انڈونیشیا کی تائید میں مضامین لکھیں۔ہمارے اپنے اخباروں اور رسالوں کا فرض ہے کہ وہ اس آواز کو جہاں تک ممکن ہو بار بار اٹھاتے رہیں تاکہ ہمارے اخباروں اور رسالوں کی آواز جتنے مسلمانوں تک پہنچ سکے وہ انڈونیشیا کی آزادی کی حمایت کرنے لگ جائیں یہ بات مسلمانوں کے سامنے بار بار آتی رہنی چاہئے۔باہر کے مبلغوں کو بھی چاہئے کہ اپنے اپنے علاقوں سے اس آواز کو بار بار اُٹھاتے ہیں۔وقتاً فوقتاً ہمارے اخباروں اور رسالوں میں ایسے مضامین چھپتے رہنے چاہئیں کہ جاوا سماٹرا کے لوگ اس بات کے حق دار ہیں کہ ان کو آزادی دی جائے۔تعلیم اور دوسری صنعت و حرفت کے لحاظ سے وہ ترقی یافتہ ملک ہے اور اتنی بڑی قوم ہے اور اس کی اتنی بڑی تعداد ہے کہ ڈچ جیسی چھوٹی قوم کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان پر حکومت کرے۔غیر حکومت کی موجودگی کا سب سے پہلا فائدہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ اس ملک کی حفاظت کر سکے لیکن ڈچ حکومت اس قابل نہیں کہ وہ انڈو نیشیا کو غیروں کے حملہ سے بچا سکے۔برطانیہ بے شک باوجود ایک چھوٹی سی قوم ہونے کے اور باوجود اتنے فاصلہ کے ہندوستان کی حفاظت کر رہی ہے لیکن ڈچ یہ نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے پاس نہ اس قدر حفاظت کے سامان ہیں نہ ہی ان کی اتنی تعداد ہے کہ وہ کسی بڑی طاقت کا مقابلہ کر سکیں۔اسی طرح ڈچ کی حکومت اور انڈو نیشیا کے لوگ نہ ہی ہم مذہب ہیں نہ ہی ہم قوم کہ انہیں حکومت کا حق حاصل ہو۔پس جب ان وجوہات میں سے کوئی وجہ بھی موجود نہیں جو کسی قوم کو دوسری قوم پر حکومت کا حق دیتی ہے کیونکہ نہ ہی ڈچ حکومت انڈو نیشیا کی حفاظت کر سکتی ہے نہ ہی وہ ان کی ہم قوم یا ہم مذہب ہے تو ایسی حالت میں ڈچ حکومت کا انڈونیشیا کو آزادی نہ دینا سوائے اس کے اور کوئی معنی نہیں رکھتا کہ وہ اپنی اور جاوا سماٹرا والوں کی طاقت کو ختم کرنا چاہتی ہے۔بجائے اس کے کہ کشمکش کے ذریعے ایک دو سرے کی طاقت کو کمزور کیا جائے ڈچ حکومت کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں سے اتحاد کر کے ان کو آزاد کر دے تاکہ وہ