سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 156 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 156

۱۵۶ لوگوں کو جو عالم اسلام میں شیخ رشید اور مفتی یروشلم سے حسن ظن رکھتے ہیں ٹھو کر اور ابتلاء سے بچانے کیلئے ہمارا فرض ہے کہ اس نازک موقع پر اپنے بھائیوں کو جوش میں نہ آنے دیں اور جو بات ہو اس میں صرف اصلاح کا پہلو یہ نظر ہو ا ظہار غضب مقصود نہ ہو تاکہ فتنہ کم ہو بڑھے نہیں۔یاد رہے کہ اس فتنہ کے بارہ میں ہمارے لئے اس قدر سمجھ لینا کافی ہے کہ شیخ رشید علی امن کو خطرہ میں ڈالنے کا موجب ہوا ہے۔ہمیں ان کی نیتوں پر حملہ کرنے کانہ حق ہے اور نہ اس سے کچھ فائدہ ہے۔اس وقت تو مسلمانوں کو اپنی ساری طاقت اس بات کیلئے خرچ کر دینی چاہئے کہ عراق میں پھر امن ہو جائے اور یہ اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ مسلمان جان اور مال سے انگریزوں کی مدد کریں اور اس فتنہ کے پھیلنے اور بڑھنے سے پہلے ہی اس کے دبانے میں ان کا ہاتھ بٹائیں تاکہ جنگ مدینہ منورہ مکہ مکرمہ سے دور رہے اور ترکی ، ایران، عراق، شام اور فلسطین اس خطرناک آگ کی لپٹوں سے محفوظ رہیں۔یہ وقت بحثوں کا نہیں کام کا ہے۔اس وقت ہر مسلمان کو چاہئے کہ اپنے ہمسایوں کو اس خطرہ سے آگاہ کرے جو عالم اسلام کو پیش آنے والا ہے تاکہ ہر مسلمان اپنا فرض ادا کرنے کیلئے تیار ہو جائے اور جو قربانی بھی اس سے ممکن ہو اسے پیش کرے۔جنگ کے قابل آدمی اپنے آپ کو بھرتی کیلئے پیش کریں ، روپیہ والے لوگ روپیہ سے امداد کریں اصل قلم اپنی قلمی قوتوں کو اس خدمت میں لگادیں اور جس سے اور کچھ نہیں ہو سکتا وہ کم سے کم دعا کرے کہ اللہ تعالی اس جنگ سے اسلامی ملکوں کو محفوظ رکھے اور ہمارے جن بھائیوں سے غلطی ہوئی ہے ان کی آنکھیں کھول دے وہ خود ہی پشیمان ہو کر اپنی غلطی کا ازالہ کرنے میں لگ جائیں۔میرے نزدیک عراق کا موجودہ فتنہ صرف مسلمانوں کیلئے تازیانہ تنبیہہ نہیں بلکہ ہندوستان کی تمام اقوام کیلئے تشویش اور فکر کا موجب ہے کیونکہ عراق میں جنگ کا دروازہ کھل جانے کی وجہ سے جنگ ہندوستان کے قریب آگئی ہے اور ہندوستان اب اس طرح محفوظ نہیں رہا جس طرح کہ پہلے تھا۔جو فوج عراق پر قابض ہو عرب یا ایران کی طرف سے آسانی سے ہندوستان کی طرف بڑھ سکتی ہے۔پس ہندوستان کی تمام اقوام کو اس وقت آپس کے جھگڑے بھلا کر اپنے ملک کی حفاظت کی خاطر برطانوی حکومت کی