سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 155 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 155

۱۵۵ بزرگوں کے مقابر کے احاطے اس کی آماجگاہ بنیں گے اور یہ سب کو معلوم ہے کہ جرمنوں نے جن ملکوں پر قبضہ جمارکھا ہے ان کی کیا حالت ہو رہی ہے۔اگر شیخ رشید علی جیلانی اور ان کے ساتھی جرمنی سے ساز باز نہ کرتے تو اسلامی دنیا کیلئے یہ خطرہ پیدانہ ہوتا۔اس فتنہ کے نتیجہ میں ترکی گھر گیا ہے ایران کے دروازے پر جنگ آگئی ہے شام جنگ کا راستہ بن گیا ہے، عراق جنگ کی آماجگاہ ہو گیا ہے، افغانستان جنگ کے دروازے پر آکھڑا ہوا ہے اور سب سے بڑا خطرہ یہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہ مقامات امکہ معظمہ اور مدینہ منورہ) جو ہمیں ہمارے وطنوں ، ہماری جانوں اور ہماری عزتوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں جنگ ان کی سرحدوں تک آگئی ہے۔وہ بے فصیلوں کے مقدس مقامات “ وہ ظاہری حفاظت کے سامانوں سے خالی جگہیں جن کی دیواروں سے ہمارے دل لٹک رہے ہیں اب بم باری اور جھپٹانی طیاروں کی زد میں ہیں اور یہ سب کچھ ہمارے ہی چند بھائیوں کی غلطی سے ہوا ہے کیونکہ ان کی اس غلطی سے پہلے جنگ ان مقامات مقدسہ سے سینکڑوں میل پرے تھی۔ان حالات میں ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس فتنہ کو اس کی ابتداء میں ہی دبا دینے کی کوشش کرے ابھی وقت ہے کہ جنگ کو پرے دھکیل دیا جائے کیونکہ ابھی تک عراق اور شام میں جرمنی اور اٹلی کی فوجیں کسی بڑی تعداد میں داخل نہیں ہو ئیں۔اگر خدانخواستہ بڑی تعداد میں فوجیں یہاں داخل ہو گئیں تو یہ کام آسان نہیں رہے گا۔جنگ کی آگ سرعت کے ساتھ صحرائے عرب میں پھیل جائے گی۔" اس فتنہ کا مقابلہ شیخ رشید علی صاحب یا مفتی یروشلم کو گالیاں دینے سے نہیں کیا جا سکتا۔انہیں غدار کہہ کر ہم اس آگ کو نہیں بجھا سکتے۔میں شیخ رشید علی کو نہیں جانتا لیکن مفتی صاحب کا ذاتی طور پر واقف ہوں۔میرے نزدیک وہ نیک نیت آدمی ہیں اور ان کی مخالفت کی یہ وجہ نہیں کہ ان کو جرمنی والوں نے خرید لیا ہے بلکہ ان کی مخالفت کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ عظیم میں جو وعدے اتحادیوں نے عربوں سے کئے تھے وہ پورے نہیں کئے گئے۔ان لوگوں کو برا کہنے سے صرف یہ نتیجہ نکلے گا کہ ان کے واقف اور دوست اشتعال میں آجائیں گے۔ان ہزاروں اور لاکھوں