سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 154
۱۵۴ اپنے بچپن ہی سے روشناس ہو جاتا ہے۔بنو عباس کی حکومت علوم و فنون کی ترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے طبعاً مسلمانوں کے لئے ایک خوشکن یاد گار ہے لیکن الف لیلہ جو عربی علوم کی طرف توجہ کرنے والے بچوں کی بہترین دوست ہے اس نے تو بغداد اور بصرہ اور موصل کو ان سے اس طرح روشناس کرایا ہے کہ آنکھیں بند کرتے ہی بغداد کے بازار اور بصرہ کی گلیاں اور موصل کی سرائیں ان کے سامنے اس طرح آکھڑی ہوتی ہیں گویا کہ انہوں نے ساری عمران ہی ممالک اسلامیہ کی سیر کی ہے۔میں اپنی نسبت تو یہاں تک کہہ سکتا ہوں کہ بچپن میں بغداد اور بصرہ مجھے لندن اور پیرس سے کہیں زیادہ دلکش نظر آیا کرتے تھے کیونکہ اول الذکر میرے علم کی دیواروں کے اندر بند تھے۔جب ذرا بڑے ہوئے تو علم حدیث نے امام احمد بن حنبل کو فقہ نے امام ابو حنیفہ اور امام یوسف کو تصوف نے جنید ، شبلی اور سید عبد القادر جیلانی کو تاریخ نے ابن قیم کو علم التدریس نے نظام الدین طوسی کو ادب نے مبرد سیبویہ جریر اور فرزدق کو سیاست نے ہارون مامون اور مالک شاہ جیسے لوگوں کو جو اپنے اپنے دائرہ میں یادگار زمانہ تھے اور ہیں ایک ایک کر کے آنکھوں کے سامنے لا کر اس طرح کھڑا کیا کہ اب تک ان کے کمالات کے مشاہدہ سے دل امیدوں سے پر ہیں اور افکار بلند پروازوں میں مشغول۔ان کمالات کے مظهر اور ان دکشیوں کے پیدا کرنے والے عراق میں فتنہ کے ظاہر ہونے پر مسلمانوں کے دل دکھے بغیر نہیں رہ سکتے ہیں۔کیا ان ہزاروں بزرگوں کے مقابر جو دنیاوی نہیں روحانی رشتہ سے ہمارے ساتھ منسلک ہیں ان پر بمباری کا خطرہ ہمیں بے فکر رہنے دے سکتا ہے؟ عراق سنی اور شیعہ دونوں کے بزرگوں کے مقدس مقامات کا جامع ہے۔وہ مقام کے لحاظ سے بھی اسلامی دنیا کے قلب میں واقع ہے۔پس اس کا امن ہر مسلمان کا مقصود ہے۔آج وہ امن خطرہ میں پڑ رہا ہے اور دنیا کے مسلمان اس پر خاموش نہیں رہ سکتے اور وہ خاموش نہیں ہیں۔دنیا کے ہر گوشہ کے مسلمان اس وقت گھبراہٹ ظاہر کر رہے ہیں اور ان کی گھبراہٹ بجا ہے کیونکہ وہ جنگ جس کے تصفیہ کی افریقہ کے صحرا اور میڈ ٹرینین ( Mediterranean) کے سمندر میں امید کی جاتی تھی۔اب وہ مسلمانوں کے گھروں میں لڑی جائے گی۔اب ہماری مساجد کے صحن اور ہمارے