سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 153 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 153

۱۵۳ جرنیل کیلئے دعا ئیں نہ نکلتی ہوں۔اس کے خون کے قطرے آج بھی چین کی وادیوں میں ہم کو آواز میں دیتے ہیں کہ آؤ اور میرے خون کا انتقام لو۔بے شک بہادر جرنیل مر گیا۔مگر مرنا ہے کیا؟ کیا یوں لوگ نہیں مرتے ؟ کیا وہ بادشاہ اور جرنیل جو دشمن سے نہ لڑے مر نہ گئے ؟ وہ بھی ضرور مرگئے لیکن ان کیلئے ہمارے دلوں سے لعنت نکلتی ہے اور اس جرنیل کیلئے دعا ئیں۔" آج بھی اس کی کشش ہمیں پسین کی طرف بلا رہی ہے اور اگر مسلمانوں کی غیرت قائم رہی اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے ظاہر ہوتا ہے نہ صرف قائم رہے گی بلکہ ترقی کرے گی اور پہلے سے بڑھ کر ظاہر ہو گی اور وہ دن دور نہیں جب اس جرنیل کے خون کے قطروں کی پکار اس کی جنگلوں میں چلانے والی روح اپنی کشش دکھائے گی اور بچے مسلمان پھر سپین پہنچیں گے اور وہاں اسلام کا جھنڈا گاڑیں گے۔اس کی روح آج بھی ہمیں بلا رہی ہے اور ہماری روحیں بھی پکار رہی ہیں کہ اے شہید وفا! تم اکیلے نہیں ہو محمد رسول اللہ میں اللہ کے دین کے سچے خادم منتظر ہیں۔جب خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز آئے گی وہ پروانوں کی طرح اس ملک میں داخل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے نور کو وہاں پھیلائیں گے۔" (الفضل ۶ - مئی ۱۹۴۴ء) ۱۹۴۱ء میں جب جنگ عظیم کی ہولناک مصیبت دنیا پر چھائی ہوئی تھی اور عراق کی آزادی جنگ کے میدانوں سے ہٹ کر بھی ایک دوسرے کے خلاف انتہائی خوفناک جنگ لڑی جارہی تھی۔عراق (جس کی اہمیت عالم اسلام میں مسلم ہے) میں نازیوں کی ریشہ دوانیوں سے بعض عراقیوں نے ایسی شورش پیدا کی جس کے نتیجہ میں مقامات مقدسہ کے خطرہ میں پڑنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے لاہور ریڈیو سے ایک تقریر فرمائی جس کا ایک ایک لفظ مقامات مقدسہ کی عظمت و محبت کا آئینہ دار اور عراق اور اسلام کے لئے نہایت بیش قیمت مشوروں اور بر وقت رہنمائی پر مشتمل تھا۔حضور نے فرمایا:۔عراق کی موجودہ شورش دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے اور ہندوستانیوں کے لئے بھی تشویش کا موجب ہو رہی ہے۔عراق کا دار الخلافہ بغداد اور اس کی بندرگاہ بصرہ اور اس کے تیل کے چشموں کا مرکز موصل ایسے مقامات ہیں جن کے نام سے ایک مسلمان