سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 5
اور حضرت خلیفہ اول نے بھی اس نقش قدم پر چل کر ہر ایسے امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جو کسی بھی پہلو سے مفید ہو سکتا ہے۔" منصب خلافت صفحه ۳۶٬۳۵) حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی وفات کے موقع پر آئندہ نسلوں کی حفاظت کے لئے قدم آگے بڑھانے اور علم حاصل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔پس یہ بڑے خطرات کے دن ہیں اس لئے سنبھلو اور اپنے نفسوں سے دنیا کی محبت سرد کر دو اور اپنے دین کی خدمت کے لئے آگے آؤ اور ان لوگوں کے علوم کے وارث بنو جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت پائی۔تا تم آئندہ نسلوں کو سنبھال سکو۔تم لوگ تھوڑے تھے اور تمہارے لئے تھوڑے مدرس کافی تھے مگر آئندہ آنے والی نسلوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگی اور ان کے لئے بہت زیادہ مدرس در کار ہیں۔پس اپنے آپ کو دین کے لئے وقف کر دو اور یہ نہ دیکھو کہ اس کے عوض تمہیں کیا ملتا ہے۔جو شخص یہ دیکھتا ہے کہ اسے کتنے پیسے ملتے ہیں وہ کبھی خدا تعالیٰ کی نصرت حاصل نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ کی نصرت اس کو ملتی ہے جو اس کا نام لے کر سمندر میں کو دپڑتا ہے چاہے موتی اس کے ہاتھ آجائے چاہے وہ مچھلیوں کی خوراک بن جائے۔" الفضل یکم اپریل (۱۹۴۴ء) یہ عظیم مقصد کبھی بھی آپ کی نظروں سے اوجھل نہ ہوا اور آپ مسلسل اس کی طرف متوجہ رہے۔بر صغیر کی تقسیم سے کچھ دن پہلے آپ نے فرمایا۔" مجھے کئی سال سے یہ فکر تھا کہ جماعت کے پرانے علماء اب ختم ہوتے جارہے ہیں ایسا نہ ہو کہ جماعت کو یکدم مصیبت کا سامنا کرنا پڑے اور جماعت کا علمی معیار قائم نہ رہ سکے۔چنانچہ اس کے لئے میں نے آج سے تین چار سال قبل علماء کی تیاری شروع کر دی تھی۔کچھ نوجوان تو میں نے مولوی صاحب کے ساتھ لگا دیئے اور کچھ باہر بھجوا دیئے تاکہ وہ دیو بند وغیرہ کے علماء سے ظاہری علوم سیکھ آئیں۔یہ بھی اللہ تعالی کی مشیت اور قدرت کی بات ہے کہ ان علماء کو واپس آئے صرف ایک ہفتہ ہوا ہے جب وہ واپس آگئے تو مولوی صاحب فوت ہو گئے۔" (الفضل اا۔جون ۱۹۴۷ء) یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حضور نے بعض واقفین زندگی کو طبیہ کالج علی گڑھ اور طبیہ کالج لاہور سے علم طب کی تعلیم دلوائی اور اس طرح جماعت میں اس قدیم و مفید علم کی ترویج