سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 4
۴ پڑھنے کا موقع پھر نہیں ملے گا۔حضرت مولانا نور الدین صاحب نے اپنے اس فدائی اور قدردان طالب علم کو کس خوشی اور جذبہ سے پڑھایا ہو گا !! حضرت میاں صاحب کے قادیان آنے سے ایک اور درس جاری ہو گیا جس سے اور کئی نوجوان بھی استفادہ کرنے لگے۔ہمارے اخبار و رسائل اس امر کے گواہ ہیں کہ حضرت مولانا نورالدین صاحب اپنی آخری شدید بیماری کے دوران بھی بڑی محنت اور توجہ سے انگریزی ترجمہ قرآن کے سلسلہ میں کام کرواتے رہے۔حضرت مصلح موعود نے حضرت خلیفہ اول کے زمانے میں ہی تقریر و تحریر کے ذریعہ خدمت دین کا سلسلہ شروع فرما دیا تھا۔۱۹۱۰ء میں آپ نے درس قرآن کا آغاز فرمایا اور قرآنی علم اور دینی غیرت اور جوش و جذبہ کے متعلق اپنوں اور غیروں سے خراج تحسین حاصل کیا۔قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت سے مدرسہ احمدیہ جاری تھا۔خلافت اولی میں انجمن کے بعض اراکین نے مدرسہ احمدیہ کو ختم کر کے انگریزی سکول کی طرف زیادہ توجہ دینے کی کوشش کی اور قریب تھا کہ ان کی کوشش بار آور ہو جائے کہ حضرت مصلح موعود کو اس کا علم ہو گیا اور آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یاد گار مدرسہ احمدیہ کو قائم رکھنے کے لئے ایسا پُر اثر خطاب فرمایا کہ وہ لوگ بھی جو اس کے خاتمہ کی کوشش کر رہے تھے یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ہمارا مطلب یہ نہیں تھا اور ہمار ا مطلب سمجھا نہیں گیا۔مدرسہ احمدیہ کا قیام ایک بیج کی طرح تھا جو علمی ترقی کے لئے بویا گیا اس کے بعد خلافت ثانیہ میں علم کی ترویج و ترقی کا سلسلہ روز افزوں رہا۔حضرت فضل عمر نے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد جماعتی ترقی کے لئے جو لائحہ عمل پیش فرمایا اس میں تعلیم کا پہلو بہت نمایاں تھا۔آپ نے فرمایا۔” میں نے بتایا تھا کہ یز حیھم کے معنوں میں اُبھار نا اور بڑھانا بھی داخل ہے اور اس کے مفہوم میں قومی ترقی داخل ہے اور اس ترقی میں علمی ترقی بھی شامل ہے۔۔۔۔ایسا ہونا چاہئے کہ جماعت کا کوئی فرد عورت ہو یا مرد باقی نہ رہے جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو۔صحابہ نے تعلیم کیلئے بڑی بڑی کوششیں کی ہیں۔آنحضرت میں نے بعض دفعہ جنگ کے قیدیوں کا فدیہ یہ مقرر فرمایا ہے کہ وہ مسلمان بچوں کو تعلیم دیں۔جب دیکھتا ہوں کہ آنحضرت مال والا ہی کیا افضل لے کر آئے تھے تو جوش محبت سے روح بھر جاتی ہے۔آپ نے کوئی بات نہیں چھوڑی۔ہر معاملہ میں ہماری راہنمائی کی ہے۔پھر حضرت مسیح موعود