سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 3 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 3

٣ خلافت ثانیہ۔قادیان کی ترقی تیسری جلد کے آخر میں پیشگوئی مصلح موعود کے متعلق عظیم الشان انکشاف کا ذکر تھا۔اس انکشاف کے بعد جماعت کی ترقی کی رفتار میں کمیت و کیفیت ہر لحاظ سے غیر معمولی اضافہ ہو گیا۔خدائی فضلوں کے نزول اور اسکی محبت کے جلوؤں کا نظارہ کرنے کے لئے اس جائزے کا آغاز قادیان اور جماعت کی ابتدائی حالت سے کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔مرکز احمدیت قادیان کی چھوٹی سی گمنام بستی دیکھتے ہی دیکھتے ایک بلند پایہ علمی مرکز کی حیثیت اختیار کر گئی۔قادیان میں کثرت سے آنے والے زائرین یا حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے ارشاد کے مطابق واردین و صادرین " حضور کی زیارت و ملاقات کی برکات سے مالا مال ہوتے اور آنحضرت کے ارشاد " مسیح کثرت سے خزانے تقسیم کرے گا" کے مطابق روحانی خزائن سے اپنی جھولیاں بھرتے۔حضور کی مجلس ایک بے مثال علمی درسگاہ تھی جہاں عوام کے ساتھ ساتھ حضرت مولانا نورالدین صاحب، حضرت مولوی عبد الکریم صاحب، حضرت مولانا محمد احسن امروہی صاحب ، حضرت مولانا برہان الدین جہلمی صاحب جیسے علماء حضرت پیر سراج الحق صاحب اور حضرت صوفی احمد جان صاحب جیسے سجادہ نشین و صوفیاء بڑے ادب و احترام اور عقیدت سے اپنے علم و عرفان کی تکمیل کے لئے کوشاں رہتے تھے۔حضور کی مجلس کے علاوہ ان بزرگ علماء کی مجالس ایک درس گاہ کا رنگ رکھتی تھیں اور اس طرح دن رات تدریس و تعلیم کا سلسلہ جاری رہتا۔حضرت مولانا نور الدین صاحب نے کلام الہی سے کمال عقیدت و محبت کو اپنے نمونہ اور تعلیم سے جماعت میں جاری کر دیا اور دن رات آپ کے متعدد درس قرآن مجید جماعت کی علمی پیاس کی تسکین کا ذریعہ بنے رہتے۔حضرت مولانا نور الدین صاحب کی علمی فیض رسانی کا کسی قدر اندازه اس امر سے ہو سکتا ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب گورنمنٹ کالج لاہور سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر قادیان آگئے اور اس عجیب اور غیر متوقع اقدام کے متعلق پوچھنے پر بتایا کہ میں نے چا کہ کالج اور اس کی تعلیم تو پھر بھی حاصل کی جا سکتی ہے علامہ نورالدین صاحب سے قرآن