سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 110 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 110

لیں۔یہ دشمنوں کا اقرار ہے جو انہوں نے ہماری تبلیغی جدوجہد کے متعلق کیا یہ طاقت ہم میں کہاں سے آئی ہے؟ اور یہ جوش ہم میں کیوں پیدا ہوا؟ اسی لئے کہ بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہم میں ایک آگ پیدا کر دی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ پھر دوبارہ اسلام کو دنیا میں غالب کر دیں۔پس مسلمان احمدیت کا جتنا بھی مقابلہ کرتے ہیں وہ اسلام کے غلبہ میں اتنی ہی روکیں پیدا کرتے ہیں اور جتنی جلدی وہ احمدیت میں شامل ہو جائیں گے اتنی جلدی ہی اسلام دنیا میں غالب آجائے گا۔"حقیقت یہ ہے کہ اس وقت جس قدر تحریکیں دنیا میں جاری ہیں وہ ساری کی ساری دنیوی ہیں صرف ایک تحریک مسلمانوں کی مذہبی تحریک ہے اور وہ احمدیت ہے۔پاکستان خواہ کتنا بھی مضبوط ہو جائے کیا عراقی کہیں گے کہ ہم پاکستانی ہیں ، کیا شامی کہیں گے کہ ہم پاکستانی ہیں، کیا لبنانی کہیں گے کہ ہم پاکستانی ہیں کیا حجازی کہیں گے کہ ہم پاکستانی ہیں ، شامی تو اس بات کے لئے بھی تیار نہیں کہ وہ لبنانی یا حجازی کہلائیں، حالانکہ وہ ان کے ہم قوم ہیں پھر لبنانی اور حجازی اور عراقی اور شامی پاکستانی کہلانا کب برداشت کر سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ تمام مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ قولا تو اتحاد کر سکتے ہیں مگر وہ ایک پارٹی اور ایک جماعت نہیں کہلا سکتے۔صرف ایک تحریک احمدیت ہی ایسی ہے جس میں سارے کے سارے شامل ہو سکتے ہیں عراقی بھی اس میں شامل ہو کر کہہ سکتا ہے کہ میں احمدی ہوں، عربی بھی اس میں شامل ہو کر کہہ سکتا ہے کہ میں احمدی ہوں حجازی بھی اس میں شامل ہو کر کہہ سکتا ہے کہ میں احمدی ہوں اور عملاً ایسا ہو رہا ہے۔وہ عربی ہونے کے باوجود اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم احمدیت میں شامل ہیں جس کا مرکز پاکستان میں ہے اور اس طرح وہ ایک رنگ میں پاکستان کی ماتحتی قبول کرتے ہیں مگر یہ ماتحتی احمدیت میں شامل ہو کر ہی کی جا سکتی ہے اس کے بغیر نہیں۔چنانچہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ وہ عربی جو اس غرور میں رہتا ہے کہ میں اس ملک کا رہنے والا ہوں جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے میرا مقابلہ کوئی اور شخص کہاں کر سکتا ہے وہ احمدیت میں شامل ہو کر بڑی عظیم ہندو پاکستان کا بھی ادب و احترام کرتا ہے اور یہاں مقدس مقامات کی زیارتوں کے لئے بھی آتا ہے۔غرض ایک ہی چیز ہے جس کے ذریعہ دنیائے اسلام پھر متحد ہو سکتی ہے اور جس کے ذریعہ دوسری دنیا پر کامیابی اور