سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 111 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 111

فتح حاصل ہو سکتی ہے اور وہ احمدیت ہے۔آخر کیا وجہ ہے کہ مسلمان دنیا میں ہر جگہ ذلیل ہو رہے ہیں اور ہر جگہ تباہی اور بربادی کا شکار ہو رہے ہیں؟ اس سے زیادہ تباہی اور کیا ہوگی کہ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کی پچاس ہزار عورتیں اب تک سکھوں اور ہندوؤں کے قبضہ میں ہیں کیا یہ معمولی ذلّت ہے کہ مسلمانوں کی پچاس ہزار عورتوں کو وہ پکڑ کرنے گئے اور ان سے بدکاریاں کر رہے ہیں۔کیا یہ معمولی عذاب ہے کہ پانچ چھ لاکھ مسلمان دنوں میں مارا گیا اور پھر فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے کیا وہ مسلمانوں کو نظر نہیں آرہا؟ ابھی حیدر آباد میں جو کچھ ہوا ہے اس سے کس طرح مسلمانوں کو صدمہ ہوا ہے اور وہ اپنے دلوں میں کیسی ذلت اور شرمندگی محسوس کر رہے ہیں مگر یہ ساری مصیبتیں اور بلائیں ایک لمبی زنجیر کی مختلف کڑیوں کے سوا اور میں کیا ؟ آخر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کی جو محبت ہے اس کے ظاہر ہونے کا وقت کب آئے گا اور کونساوہ دن ہو گا جب خدا تعالیٰ کی غیرت بھڑ کے گی اور مسلمانوں کو اس تنزل اور ادبار سے نجات دلائے گی ؟ خد اتعالیٰ کی غیرت کبھی دنیا میں بھڑکتی ہے یا نہیں ، اور اگر بھڑکتی ہے تو مسلمانوں کو سوچنا چاہئے کہ اس کی غیرت کے بھڑکنے کا کونسا ذریعہ ہوا کرتا ہے۔اگر وہ سوچتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ ہمیشہ خدا تعالیٰ پہلے اپنا مامور دنیا میں بھیجتا ہے اور پھر اس مامور کے ذریعہ ہی اس کی غیرت بھڑکا کرتی ہے۔اس کے سواخد اتعالیٰ نے کبھی کوئی طریق اختیار نہیں کیا اور یہی ایک طریق ہے جس پر چل کر وہ اب بھی خدا تعالیٰ کی غیرت کا نمونہ دیکھ سکتے ہیں۔یہ بات مسلمانوں کے سامنے پیش کرو اور انہیں سمجھاؤ کہ تمہارا فائدہ اسلام کا فائدہ اور پھر ساری دنیا کا فائدہ اسی میں ہے کہ تم جلد سے جلد احمدیت میں شامل ہو جاؤ۔آخر وہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے وہ ہم سے رکتے ہیں۔ہماری تو ساری تاریخ بتاتی ہے کہ ہم نے ہر موقع پر مسلمانوں کی خدمت کی ہے گو اس کے بعد ہمیشہ ان کی طرف سے مخالفت ہی ہوئی ہے مگر پھر بھی ہمارا کیا نقصان ہوا۔ابھی کوئٹہ میں غیر احمدیوں کی طرف سے ایک جلسہ کیا گیا جس میں لوگوں کو ہمارے خلاف اکسایا گیا۔ایک احمدی ڈاکٹر میجر محمود احمد رات کے وقت کسی مریض کو دیکھ کر کار میں واپس آرہے تھے کہ وہ تقریر کی آواز سن کر وہاں ٹھہر گئے۔انہوں نے اپنی موٹر باہر کھڑی کی اور خود تھوڑی دیر کے لئے اندر چلے گئے۔بعض