سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 67 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 67

46 حضرت مسیح علیہ السلام نے فلسطین کو چھوڑا تو اس لئے کہ ان کے دائرہ خطاب میں کشمیر بھی شامل تھا۔حضرت مسیح علیہ السلام نے جب فلسطین کو چھوڑا تو آپ اپنے دائرہ عمل سے بھاگے نہیں بلکہ آپ اپنی دوسری ڈیوٹی پر چلے گئے۔اگر آپ فلسطین میں ہی رہتے تو نہ آپ فلسطین میں اپنا کام کر سکتے تھے اور نہ ہی بنی اسرائیل کی دوسری کھوئی ہوئی بھیڑوں تک خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا سکتے تھے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے اگر فلسطین کو چھوڑا تو اس کے بعد آپ کا دائرہ عمل اور وسیع ہو گیا اور یہی وہ چیز ہے جس نے مجھے قادیان چھوڑنے کیلئے اپنی رائے کو بدلنے پر مجبور کیا۔میرے سپرد جو کام ہے وہ صرف قادیان سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلام کی اشاعت کیلئے اور محمد رسول اللہ علیم کے نام کو بلند کرنے کے لئے ساری دنیا کی طرف مبعوث کئے گئے تھے آپ کا دائرہ خطاب صرف قادیان تک محدود نہ تھا۔بے شک میں نے پہلے یہ فیصلہ کیا تھا کہ میں قادیان میں ہی رہوں لیکن بعد میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات پر غور کر کے مجھے یقین ہو گیا کہ جماعت کے لئے ایک ہجرت مقدر ہے تو میں نے سوچا کہ میرا کام قادیان یا صرف ایک ملک سے وابستہ نہیں بلکہ دوسرے ممالک سے بھی میرا تعلق ہے۔اگر میں قادیان میں رہتا ہوں تو اس کے یہ معنی ہیں کہ میں ان سب کاموں کو ترک کر دیتا ہوں جو میرے سپرد ہیں اور ایک جگہ اپنے آپ کو مقید کر لیتا ہوں جیسا کہ بعد میں قادیان والوں کی حالت ہو گئی تھی۔لیکن اگر میں قادیان سے باہر چلا جاتا ہوں تو صرف ایک چھوٹے سے دائرے سے نکلتا ہوں اور ایک وسیع دنیا کو بلانے پر قادر ہو جاتا ہوں۔سقراط نے اپنے شہر کو اس لئے نہیں چھوڑا کہ ان کے مخاطب صرف اس شہر والے تھے اور حضرت مسیح السلام نے فلسطین کو چھوڑا تو اس لئے کہ فلسطین میں ان کے مخاطبوں میں سے صرف دو قبیلے تھے اور دس قبیلے فلسطین سے باہر تھے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی جن لوگوں کی خاطر فلسطین کو چھوڑا وہ فلسطین میں بسنے والوں سے سینکڑوں گنا زیادہ تھے لیکن میں نے جن لوگوں کی خاطر قادیان چھوڑا قادیان اور اس کی آبادی اس کا ہزارواں حصہ بھی نہیں۔پس یہ صحیح ہے کہ پہلے یہی فیصلہ کیا گیا تھا کہ میں قادیان نہیں چھوڑوں گا لیکن جب میں نے دیکھا کہ ہمارے لئے