سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 519 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 519

۵۱۹ ہماری ترقی کا زمانہ ہے۔اس وقت ان کی حیثیت ایک مچھر کی بھی نہیں۔مچھر کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے مگر وہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے لیکن پھر بھی انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ اگر یہ بیچ قائم رہا تو جب جماعت کمزور ہو جائے گی اس وقت اسے نقصان پہنچائے گا اس لئے ہمارا یہ فرض ہے کہ نہ صرف ہم اپنی اصلاح کریں بلکہ ایسے لوگوں کی بھی اصلاح کریں جو جماعت کے لئے آئندہ کسی وقت بھی مضر ہو سکتے ہیں۔پس ان لوگوں کو کچلنا ہمارا فرض ہے خواہ ان کے ساتھ ان سے ہمدردی رکھنے والے بعض بڑے لوگ بھی کچلے جائیں اور ہر مخلص اور بچے مبائع کا یہ فرض ہے کہ وہ اس بارہ میں میری مدد کرے اور ایسے لوگوں کے متعلق مجھے اطلاع دے۔اور اگر کوئی احمدی میرے اس اعلان کے بعد اس کام میں کو تاہی کرے گا تو خدا تعالیٰ کے نزدیک مومن نہیں ہو گا بلکہ اس کی بیعت ایک تمسخر بن جائے گی کیونکہ اس نے جان ومال اور عزت کے قربان کرنے کا وعدہ کیا لیکن جب خلیفہ وقت نے اسے آواز دی تو اس نے کسی کی دوستی کی وجہ سے اس آواز کا جواب نہیں دیا۔پس ہر احمدی کا یہ فرض ہے کہ وہ منافقین کی اطلاع مجھے دے۔تم اس بات سے مت ڈرو کہ سو میں سے پچاس احمدی نکل جائیں گے۔تم پچاس سے ہی سو بنے ہو بلکہ تم ایک سے سو بنے ہو پھر اگر سو میں سے پچاس نکل جائیں گے تو کیا ہوا۔پس یہ مت خیال کرو کہ ان لوگوں کے نکل جانے سے جماعت کو کوئی نقصان پہنچے گا۔گھاس کاٹ دینے سے باغ سے سبزہ تو کم ہو جاتا ہے لیکن درخت نشو و نما پاتا ہے اور باغ زیادہ قیمتی ہو جاتا ہے۔" (الفضل یکم دسمبر ۱۹۴۹ء)۔جماعتی نظم و ضبط اور اتحاد کو قائم رکھنے اور جماعت کی روحانی و اخلاقی حالت کو معیاری بنانے کیلئے بعض کمزور طبع لوگوں کو ان کی کمزوری پر کئی طرح سے فہمائش و تادیب ہو سکتی ہے۔حضور نهایت حکمت و دانائی سے ہر پیش آمدہ صورت پر شریعت کے مطابق عمل فرماتے۔زیر نظر مضمون کی مناسبت سے آپ جو ذرائع اصلاح عمل میں لاتے تھے ان میں سے اخراج از نظام جماعت کی تشریح ضروری معلوم ہوتی ہے۔حضرت فضل عمر اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔"جماعت کے معنے یہ ہیں۔کہ ہم لوگ متفق ہو کر ایک اقرار کرتے ہیں۔اور وہ یہ کہ ہم نظام سلسلہ کی مضبوطی کے لئے مل کر کوشش کرتے رہیں گے۔لیکن وہ جو نظام سلسلہ کو توڑتا ہے ہم ہر وقت اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ جب اسے نظام کا احترام نہیں