سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 518
۵۱۸ اللہ تعالیٰ کی قدوسیت کس طرح ثابت ہو رہی ہے۔۔۔۔۔kr (الفضل ۲۶۔فروری ۱۹۳۵ء) نظم و ضبط اور جماعتی ترقی کیلئے خلیفہ وقت اور اس کے مقرر کردہ کارکنوں اور عہدیداروں کی مکمل اطاعت۔افسروں کا اپنے ماتحتوں اور عام افراد سے عزت نفس کو قائم رکھنے بلکہ زیادہ کرنے والے سلوک کی تلقین فرماتے ہوئے آپ کی نظر سے یہ پہلو بھی مخفی نہ تھا کہ ہر جماعت میں بعض منافق طبع لوگ ایسے چھپے ہوئے دشمن ہوتے ہیں جو بیرونی دشمنوں اور مخالفوں سے بھی زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔تاریخ عالم میں ایسے افسوسناک واقعات کی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ نفاق کا کینسر اندر ہی اندر بڑھتا اور پھیلتا رہا اور اس کی نحوست سے بڑی بڑی حکومتیں اور طاقتیں تہ و بالا ہو گئیں۔اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر حضور کثرت سے جماعت کو تنبیہ فرماتے رہے اور آپ ہمیشہ اس امر کے لئے کوشاں رہے کہ جماعت اس فتنہ سے محفوظ رہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی زندگی میں جو فتنے بھی اٹھے آپ نے ان کا ایک بیدار اور چوکس رہنما کی طرح مقابلہ کیا اور ایسے ہر فتنے کے بعد جماعت مضبوط سے مضبوط تر ہو کر ترقی و استحکام کی منزلیں طے کرتی چلی گئی۔نفاق کی خرابیوں اور نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے ایک خطبہ میں آپ نے فرمایا۔وو جماعت کو زندہ رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ اس قسم کے (منافق۔ناقل) لوگوں کی اصلاح کی جائے۔میں پھر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ رحم کے یہ معنی نہیں کہ باغ میں گھاس اگا ہو اور اسے کاٹانہ جائے اگر کوئی باغبان اس گھاس پر رحم کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ درخت مرجائے گا۔اگر کوئی شخص سانپ پر رحم کرتا ہے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ سانپ اس کے بچہ کو کاٹ لے گا۔باؤلے کتے پر اگر کوئی رحم کرتا ہے تو اچھے شہری مارے جائیں گے یہ رحم نہیں ظلم ہے۔رحم کی مستحق سب سے اول جماعت ہے، رحم کا مستحق سب سے اول سلسلہ ہے ، رحم کا مستحق سب سے اول نظام سلسلہ ہے اور جو شخص ان کے خلاف باتیں کرتا ہے وہ اس قابل نہیں کہ اسے جماعت میں رہنے دیا (الفضل یکم دسمبر ۱۹۴۹ء) جائے۔" اس انتہائی تباہ کن خرابی اور فتنہ سے پوری طرح ہوشیار رہنے اور اپنے دامن کو اس آلودگی سے ہمیشہ کیلئے بچانے کی تلقین کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔منافق لوگ جماعت کو یا مجھے اس وقت تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے کیونکہ یہ