سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 499
۴۹۹ انسانی تاریخ میں مختلف طرز حکومت کا ذکر ملتا ہے ابتدائی زمانہ میں بادشاہت کا دور نظر آتا ہے جس میں بالعموم کوئی انسان اپنی ذہنی یا جسمانی صلاحیتوں کی بناء پر اپنے ساتھیوں پر فوقیت حاصل کر لیتا اور پھر ان کو اپنا تابع اور مطیع بنا کر ان پر حکومت کرتا۔یہ سلسلہ بالعموم وراثت میں چلتا اور آہستہ آہستہ ایک خاندان کی حکومت ختم ہو کر دوسرا کوئی اور خاندان سامنے آجاتا ہے۔بادشاہت کی متعدد اور مختلف شکلیں سامنے آتی رہیں تا آنکہ جمہوریت کا زمانہ آگیا اور یہ بات عام انسانوں کو بہت ہی بھلی اور پیاری لگی کہ عوام کے ذریعہ عوام کی حکومت ، تاہم ہر ملک اور علاقہ میں وہاں کے حالات کے مطابق جمہوریت کی تعریف اور شکل بدلتی رہی اور موجودہ دور میں جمہوریت کا جو عام تصور ہے وہ یقیناً اس تصور سے بہت مختلف ہے جو ابتداء میں پیش کیا گیا تھا۔جمہوریت کی کوکھ سے کئی اور نظام جنم لیتے رہے۔کچھ عرصہ پہلے تک کمیونزم اور سوشلزم کا بہت چرچا تھا مگر یہ عجیب بات ہے کہ کمیونزم اپنے عروج کی بلندیوں تک پہنچنے کے بعد زوال کی بد ترین شکل کو پہنچ چکا ہے مگر کبھی بھی اپنی کتابی تعریف کے مطابق کہیں بھی روبہ عمل نہیں آسکا یہی حال سوشلزم کا ہے۔اس کا حلیہ بھی ہر جگہ تبدیل ہو تا رہا کبھی اسے کمیونزم کی ابتداء کے طور پر پیش کیا گیا کبھی اس کے ساتھ افریقی سوشلزم کا لاحقہ لگا کر اس کی شکل تبدیل کی گئی اور کبھی اسلامی سوشلزم کے نام سے اسلام سے بھونڈا نداق کیا جاتا رہا۔اسلامی نظام حکومت جسے خلافت کا نام دیا جاتا ہے ایک ایسا نظام ہے جسے انسانی نظاموں کے مقابل پر خدائی تائید و نصرت کا غیر معمولی امتیاز حاصل ہے اور اس میں ہر زمانہ کی ضرورت اور حالات کے تقاضوں سے کلی طور پر عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔یہ نظام جس کی بنیاد قرآن مجید میں پیش کی گئی اور جس کا عملی نفاذ اور طریق کار خیر القرون میں متعین ہو گیا انسانوں کے بنائے ہوئے طریقوں اور ازموں کے مقابل پر ہمیشہ ہی ایک کامیاب چیلنج کے طور پر موجود رہا۔آنحضرت کی پیش گوئی کے مطابق حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ اس بابرکت نظام کا پھر سے ڈول ڈالا گیا۔حضرت مولانا نور الدین نے اپنی قرآنی بصیرت و روشنی سے اس نظام کی برکات کو واضح کیا۔حضرت مصلح موعود کو بھی اس مقدس کام کو آگے بڑھانے میں نمایاں خدمات بجالانے کی توفیق حاصل ہوئی۔جن کا کسی قدر تذکرہ سوانح کی ابتدائی جلدوں میں بیان ہو چکا ہے۔جماعت میں وقتا فوقتا بعض فتنے سر اٹھاتے رہے جن میں وقتی طور پر بہت شدت اور جوش