سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 500 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 500

۵۰۰ و خروش ہو تا تھا مگر حضرت مصلح موعود کی اولو العزم قیادت ، دور اندیشی اور حزم واحتیاط سے وہ خوفناک فتنے یکے بعد دیگرے دیکھتے ہی دیکھتے فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاء کے مطابق جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے رہے اور فتنہ کے بانی مبانی اور ان کے ساتھی اور مددگار اپنی طاقت ، تعداد اثر و رسوخ ، علمیت و تقویٰ کے بلند بانگ دعاوی کے باوجود خائب و خاسر اور نسیا منسیا ہو جاتے۔تائید الہی اور خدائی نصرت کا یہ نشان اتنی بار دہرایا گیا کہ عقل و بصیرت رکھنے والا ہر شخص یہ سمجھنے اور ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یقینا خد اتعالیٰ کا سایہ آپ کے سر پر تھا جس کی برکت سے آپ ناکامیوں اور نامرادیوں سے محفوظ رہتے اور کامیابیوں کامرانیوں سے نوازے جاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بعد آنے والی قدرت کو قدرت ثانیہ قدرت ثانیہ سے تعبیر فرمایا تھا۔حضرت مصلح موعود اس کے متعلق فرماتے ہیں۔قدرت ثانیہ آئی اور اس کا ظہور ہوا مگر افسوس کئی لوگ ہیں جنہوں نے " اس کو شناخت نہیں کیا۔میں دنیا کے ہر مقدس سے مقدس مقام پر کھڑے ہو کر خد اتعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ قدرت ثانیہ کا جو ظہور ہونا تھاوہ ہو چکا۔“ (الفضل ۱۹۔فروری ۱۹۶) عمائدین سلسلہ احمدیہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر حضرت خلیفتہ المسیح الاول مولانا حاجی الحرمین نورالدین کی بیعت کر کے عملاً یہ ثابت کیا کہ وہ خدا کی منشاء و مشیت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وصیت کے مطابق جماعتی بہتری و ترقی اور اتحاد و اتفاق کیلئے ایک واجب الاطاعت امام و خلیفہ کی بیعت کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔خلافت کے قیام میں بظاہر تو یہی نظر آتا ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے تربیت یافتہ بزرگوں نے اپنے میں سے سب سے زیادہ اَعْلَم اور انقی کو اس منصب کیلئے تجویز کیا مگر در حقیقت یہ خدا تعالٰی کا انتخاب اور خدائی تقدیر تھی جو اس طرح ظاہر ہوئی۔وہ جماعت جو دنیا بھر میں اسلام و احمدیت کی ضوفشانی کیلئے بدل و جان مصروف تھی اسے حضرت خلیفہ اول کی وفات کے صدمہ کے ساتھ ہی اس آتش فشاں کا بھی سامنا تھا کہ ایک حلقہ جس میں اچھے پڑھے لکھے تجربہ کار سلسلہ کے پرانے خدام بھی شامل تھے بعض وجوہ سے (جن کے ذکر کی یہاں چنداں ضرورت نہیں خلافت کی ضرورت سے ہی انکار کرنے لگا اور اس طرح اللہ تعالیٰ جس درخت کے خوشگوار سایہ میں جماعت کی تربیت و ترقی کے اسباب و ذرائع مہیا فرما رہا تھا اسے ہی کاٹنے کے درپے ہو گیا۔حضرت فضل عمر اس فتنہ کی شدت کا ذکر کرتے ہوئے