سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 471 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 471

بڑھتی رہے خدا کی محبت خدا کرے حاصل ہو تم کو دید کی لذت خدا کرے مل جائیں تم کو زہد و امانت خدا کرے مشہور ہو تمہاری دیانت خدا کرے راضی رہو خدا کی قضاء پر ہمیش تم لب پر نہ آئے حرف شکایت خدا کرے اخلاص کا درخت بڑھے آسمان تک ھتی رہے تمہاری ارادت خدا کرے قرآن پاک ہاتھ میں ہو دل میں نور ہو مل جائے مومنوں کی فراست خدا کرے اک وقت آئے گا کہ کہیں گے تمام لوگ ملت کے اس فدائی پر رحمت خدا کرے ھر سے عزیز و دل رہیں آباد بس اس کی محبت بنو زاہد کرو الفت نہ گر مال و دولت سے تعلق کوئی بھی رکھنا نہ تم بغض و عداوت سے که مومن کو ترقی ملتی ہے مہر و محبت سے مغرب کی باتوں میں نہ آنا اے میرے پیارو کبھی نہیں کوئی ثقافت پڑھ کے اسلامی ثقافت * لڑھکنا ہی تھا قسمت میں تو بے ہوشی بھی دی ہوتی نہ احساس وفا رہتا نہ پاس آشنا رہتا مگر یہ کیا کہ میرے ہاتھ پاؤں باندھ کر تو نے لگا دی آگ اور وقف تمنا کر دیا مجھ کو