سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 470
اندھیاری راتوں میں سجدے کرنا تو پہلی باتیں تھیں اب دن اک مجلن عیش کی ہے اور رات جو ہے دیوالی ہے اب صوفے کوچیں گرجا میں اک شان سے رکھے رہتے ہیں مسجد میں چٹائی ہوتی تھی سو ظالم نے سرکا لی ہے *۔*۔غلامی روس کی ہو یا غلامی مغربیت کی کوئی بھی نام رکھ لے تو وہ ہے زنجیر لعنت کی کھیل اضداد کی عرصہ سے تیرے گھر میں جاری ہے کبھی ہے مارکس کا چرچا کبھی درس بخاری ہے جو مسلم کی دولت تھی کافر نے کھالی گنگا تو الٹی سے جا رہی ہے ترے باپ دادوں کے مخزن مقفل ترے دل کو بھائی ہے دولت پرائی ނ مشکر وراثت کا دعوی ذرا دیکھنا مولوی کی ڈھٹائی نبوت ** بطور ہم دل دوستاں کو نہ توڑیں گے ہر گز نہ ٹوٹے گا ہر گز مبارک ہو یہ ڈارون کو ہی رشتہ قرابت نہیں رکھتے لنگور ہم فکر انسانی فلک پر اڑ رہا ہے آج کل فلسفہ دکھلا رہا ہے خوب اپنا زور و بل پر مسلماں راستہ پر محو حیرت ہے کھڑا کہہ رہا ہے اس کو ملا اک قدم آگے نہ چل تیرے بندے اے خدا دنیا میں کچھ ایسے بھی ہیں سے