سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 468 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 468

i ۴۲۸ اگر تم دامن رحمت میں اپنے مجھ کو لے لیتے تمہارا کچھ نہ جاتا لیک میری آبرو ہوتی در میخانه الفت اگر میں وا کبھی پاتا تو بس کرتا نہ گھونٹوں پر صراحی ہی سیو ہوتی مری جنت تو یہ تھی میں ترے سایہ تلے رہتا رواں دل میں مرے عرفان بے پایاں کی جو ہوتی * *۔۔۔۔وہ عمر جس میں کہ پاتی ہے عقل نور و جلا تم اس کو شیب کہو ہم شباب کہتے ہیں نگاہ یار سے ہوتے ہیں سب طبق روشن رموز عشق کی اس کو کتاب کہتے ہیں ہمیں بھی تجھ سے ہے نسبت او رند بادہ نوش نگاه یار کو ہم بھی شراب کہتے بڑھا کے نیکیاں میری خطائیں کر کے معاف وہ اس ظہور کرم کو حساب کہتے ہیں ہیں * *۔مجھے ہر گز نہیں ہے کی ނ میں دنیا میں سب نکالا مجھے جس نے میں اس کا بھی دل کا بھلا چاہتا ہوں میرے چمن سے سے بھلا چاہتا ہوں رقیبوں کو آرام و راحت کی خواہش مگر میں تو کرب بلا چاہتا ہوں امیدوں کو مار اے دشمن جاں امیدیں ہی مغز زندگی ہیں تو مغز