سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 427
۴۲۷ ہوئے جماعت میں " وقار عمل" کے نام سے ہاتھ سے کام کرنے کو ذلیل سمجھنے کے خیال کو جڑھ سے اکھاڑ پھینکنے کی نہایت کامیاب کوشش کی۔ہاتھ سے کام کرنے کی افادیت بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔"کوئی پیشہ ذلیل نہیں۔ہندوستانیوں نے اپنی بیوقوفی سے بعض پیشوں کو ذلیل قرار دے دیا اور پھر خود ذلیل ہو گئے۔انگریز آج کس وجہ سے ہم پر حکومت کر رہا ہے۔اگر غور کیا جائے تو فن بافندگی ہی ان کی اس عظمت و شوکت کا موجب ہے مگر ہم یہ کہہ کر کہ جو لا ہے کا کام ذلیل ہے خود محکوم اور ذلیل ہو گئے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی ہل کو پکڑ کر جانوروں کے پیچھے نخ نخ کرتا پھرے تو معزز ہو۔لیکن اگر ہتھو مڑا چلائے تو ذلیل ہو جائے یا اگر کوئی دفتر میں کام کرے تو معزز ہو لیکن اگر کپڑا بنے تو ذلیل ہو جائے۔یہ عجیب قسم کی ذلت و عزت ہے۔جب وہی دماغ ، وہی جسم ہے تو پیشہ اختیار کر لینے سے ذلیل کیوں ہو گیا۔ایک شخص اگر نکا بیٹھا رہے لوگوں کا صدقہ کھائے اور مانگتا رہے تو وہ معزز ہو لیکن اگر کوئی کھڑی پر کپڑا بنے تو ذلیل ہو جائے۔یہ عجیب قسم کی ذلت اور عزت ہے۔ہماری عقل میں تو یہ آتی نہیں۔پس ہماری جماعت میں احساس ہونا چاہئے کہ محنت کرنا برا نہیں۔اپنے لئے اپنے خاندان کیلئے ، اپنی قوم کیلئے دین کیلئے اور خدا کے لئے کوئی کام کرنا ذلت کا موجب نہیں بلکہ اس میں عزت ہے اس لئے جو لوگ کوئی نہ کوئی کام کر سکتے ہیں وہ ضرور کریں اور ہر حال میں مفید بننے کی کوشش کریں۔میری غرض یہ ہے کہ ہماری جماعت کے تمام افراد دین و دنیا کیلئے مفید بنیں۔" ( افضل ۱۹ مارچ ۱۹۳۱ء) پیشیوں اور پیشہ وروں کی تذلیل کی مذموم سوچ کی اصلاح کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کارکنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔کوئی انسان غلطی سے پاک نہیں ہو سکتا اور غلطی کرنا قابل الزام نہیں۔بد نیتی اور کو تاہی قابل الزام بناتی ہے مگر میں نے بعض لوگوں کو دیکھا ہے وہ بعض لوگوں کی غلطیاں دیکھ کر ہمت ہار دیتے ہیں۔میں کہتا ہوں دنیا میں کونسا انسان ایسا ہو گا جس سے کبھی غلطی نہیں ہوئی۔ہر انسان سے غلطی ہوتی ہے اور بغیر غلطی کے کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی وہ قوم جو اس بات سے ڈرتی ہے کہ اس سے غلطی نہ ہو جائے وہ کبھی کامیاب :