سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 408
۴۰۸ قومی نشان کا احترام ۱۹۳۵ء کی مجلس شوری کے افتتاحی اجلاس میں حضور نے عام معمول کے خلاف نمائندگان مجلس شوری کے علاوہ زائرین کو بڑے پُر جوش انداز میں خطاب فرماتے ہوئے ان سے مندرجہ ذیل عہد لیا:۔اس وقت ہم جنگ کے میدان میں کھڑے ہیں اور جنگ کے میدان میں اگر سپاہی لڑتے لڑتے سو جائے تو مر جاتا ہے۔ہمارے سامنے نہایت شاندار مثال ان صحابه کی ہے جن کے مثل ہونے کے ہم مدعی ہیں۔ایک دفعہ رسول کریم ملی یم نے فرمایا ، یہ جھنڈا وہ لے جو اس کا حق ادا کرے۔ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہ مجھے دیں۔آپ نے اس کو دے دیا۔جنگ میں جب اس کا ہاتھ کاٹا گیا جس سے اس نے جھنڈا تھاما ہوا تھا تو اس نے دوسرے ہاتھ سے تھام لیا اور جب دوسرا ہاتھ بھی کٹ گیا تو لاتوں میں لے لیا اور جب ٹانگیں کاٹی گئیں تو منہ میں پکڑ لیا۔آخر جب اس کی گردن دشمن اڑانے لگا تو اس نے آواز دی۔دیکھو مسلمانو اسلامی جھنڈے کی لاج رکھنا اور اسے گرنے نہ دینا۔چنانچہ دو سرا صحابی آگیا اور اس نے جھنڈا پکڑ لیا۔آج ہمارے جھنڈے کو گرانے کی بھی دشمن پوری کوشش کر رہا ہے اور سارا زور لگا رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں جو جھنڈا دے گئے ہیں اسے گرا دے۔اب ہمارا فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھوں میں پکڑے رہیں اور اگر ہاتھ کٹ جائیں تو پاؤں میں پکڑلیں اور اگر اس فرض کی ادائیگی میں کسی کی جان چلی جائے تو دوسرا کھڑا ہو جائے اور اس جھنڈے کو پکڑ لے۔میں ان نمائندوں کو چھوڑ کر ان بچوں اور نوجوانوں سے جو اوپر بیٹھے سن رہے ہیں کہتا ہوں۔ممکن ہے یہ جنگ ہماری زندگی میں ختم نہ ہو گو اس وقت لوہے کی تلوار نہیں چل رہی۔لیکن واقعات کی زمانہ کی اور موت کی تلوار تو کھڑی ہے۔ممکن ہے یہ چل جائے۔تو کیا تم اس بات کے لئے تیار ہو کہ اس جھنڈے کو گرنے نہ دو گے؟ (اس پر سب نے بیک آواز لبیک کہا) ہمارے زمانہ کو خدا اور اس کے رسولوں نے آخری زمانہ قرار دیا ہے اس لئے ہماری قربانیاں بھی آخری ہونی چاہئیں۔ہمیں خدا تعالٰی نے دنیا کی اصلاح کے لئے چنا ہے اور ہم خدا تعالیٰ کی چنیدہ جماعت ہیں۔ہمیں دنیا سے ممتاز اور علیحدہ رنگ میں رنگین ہونا چاہئے۔صحابہ ہمارے ادب کی جگہ ہیں مگر عشق میں رشک پیاروں سے بھی ہوتا ہے۔پس ہمارا مقابلہ ان سے ہے جنہوں نے رسول کریم میں او یا لیلی کے دوش بدوش