سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 387 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 387

۳۸۷ کھل گئے ہیں اور باقی کے متعلق امید ہے کہ آہستہ آہستہ کھل جائیں گے۔مگر جس رنگ میں کام چل رہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ساری دنیا کی جماعت احمدیہ کا ایک مرکز پر جمع ہونا ابھی کچھ وقت چاہتا ہے۔وہ وقت لمبا ہو یا چھوٹا لیکن بہر حال جب تک وہ وقت نہ آئے جس حد تک موجودہ تعطل کو دور کیا جا سکے اس کا دور کیا جانا ضروری ہے۔گذشتہ سال جو تعطل واقع ہوا وہ معافی کے قابل تھا کیونکہ تمام علاقے آپس میں کئے ہوئے تھے اور ایک دوسرے تک خبر پہنچانا نا ممکن تھا۔لیکن اب وہ حالت نہیں رہی۔اب کسی نہ کسی ذریعہ سے قادیان اور ہندوستان کی جماعتوں کا تعلق قائم رکھا جا سکتا ہے اور تبلیغ اور اشاعت کے کام کو بھی ہاتھوں میں لیا جا سکتا ہے۔گذشتہ ایام میں جو تباہی آئی اس موقع پر قادیان کے اکثر احباب نے نہایت عمدہ نمونہ دکھایا اور قابل تعریف قربانی پیش کی جس پر میں ہی نہیں ہندوستان اور پاکستان کے لوگ ہی نہیں بلکہ دنیا کے دور دراز ملکوں کے لوگ بھی قادیان کے لوگوں کی قربانی کی تعریف کر رہے ہیں۔امریکہ اور یورپ کے لوگ اب قادیان کو صرف ایک مذہبی مرکز کے طور پر نہیں دیکھ رہے بلکہ قربانی کرنے والے ایثار کرنے والے اور اس دکھ بھری دنیا کو اس کے دکھوں سے نجات دینے کی کوشش کرنے والے لوگوں کا مرکز سمجھ رہے ہیں۔اس نقطہ نگاہ سے قادیان اب صرف احمدیوں کا مرکز نہیں رہا بلکہ وہ مختلف مفید عام کاموں کی خواہش رکھنے والے لوگوں کی توجہ کا مرکز بھی ہو گیا ہے۔ابھی چند دنوں کی بات ہے کہ ایک مجلس میں شامل ہونے کا مجھے موقع ملا۔میرے پاس امریکن قونصل جنرل کی بیوی تشریف رکھتی تھیں۔مجلس سے اٹھتے وقت میں نے ان سے کہا کہ اپنے خاوند سے مجھے انٹر ڈیوس کرا دیں۔انہوں نے اپنے خاوند کو مجھ سے ملوایا۔ملنے کے بعد سب سے پہلے فقرہ جو امریکن قونصل جنرل نے کہا وہ یہ تھا کہ مجھے قادیان دیکھنے کی بہت خواہش ہے افسوس ہے کہ اس وقت تک میں اس خواہش کو پورا نہیں کر سکا۔میں نے کہا ہمیں بھی بہت خواہش ہے لیکن افسوس کہ اس وقت ہم بھی اس خواہش کو پورا نہیں کر سکتے۔اسے سن کر نہایت افسوس سے امریکن قونصل جنرل نے کہا۔ہاں ہمیں بھی اس بات کا بہت افسوس ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے گو احمد یہ جماعت کی اکثریت قادیان کو چھوڑنے پر مجبور ہوئی ہے اور اب صرف چند سواحمدی قادیان میں رہ گئے ہیں