سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 383
٣٨٣ ماحول میں بڑی درد بھری آواز سے یہ پیغام شمع احمدیت کے پروانوں کے سامنے پیش کرتے ہوئے فرمایا۔قادیان موجود ہے ، اس کے مقدس شعائر موجود ہیں ، اس کی مساجد موجود ہیں اس کا لنگر خانہ موجود ہے، لیکن افسوس ہمارا پیارا امام یہاں موجود نہیں۔آنکھیں اپنے آقا کو دیکھنے کے لئے ترستی ہیں مگر پاتی نہیں۔تاہم ہمیں ایک گونہ خوشی ضرور ہے کہ حضور نے ہم خادموں کو اپنے پیغام سے نوازا ہے۔کر سنایا۔اس کے بعد حضرت مولوی صاحب نے امام ہمام سید نا المصلح الموعود کا مندرجہ ذیل پیغام پڑھ ۱۹۱۲ء میں جب میں حج کے لئے گیا تھا تو حج سے واپسی ایام دسمبر میں ہوئی تھی۔جہاز دو دن لیٹ ہو گیا اور میں جلسہ میں شمولیت سے محروم رہا۔اس کو پورے پینتیس سال ہو گئے۔آج پورے ۳۵ سال کے بعد پھر اس سال کے جلسہ میں شامل ہونے سے محروم ہوں۔ہم قادیان کے جلسہ کی یاد گار میں باہر بھی جلسہ کر رہے ہیں لیکن اصل جلسہ وہی ہے جو کہ قادیان میں ہو رہا ہے اور پورے چالیس ۴۰ سال کے بعد پھر یہ جلسہ مسجد اقصیٰ میں ہو رہا ہے۔مسجد اقصیٰ میں ہونے والا آخری جلسہ وہی تھا جو کہ حضرت مسیح موعود کی زندگی کے آخری سال میں ہوا۔آپ کی وفات کے بعد پہلا جلسہ مدرسہ احمدیہ کے صحن میں ہوا۔1911 ء سے جلسے مسجد نور میں ہونے شروع ہوئے اور گزشتہ سال تک دار العلوم کے علاقہ میں ہی جلسے ہوتے چلے آئے ہیں۔خدا تعالیٰ کی کسی حکمت کے ماتحت آج پھر مسجد اقصیٰ میں ہمارا جلسہ ہو رہا ہے اس لئے نہیں کہ جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والے مشتاقوں کی تعداد کم ہو گئی ہے بلکہ شمع احمدیت کے پروانے سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے قادیان نہیں آسکتے۔یہ حالات عارضی ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمیں پورا یقین ہے کہ قادیان احمدیہ جماعت کا مقدس مقام اور خدائے وحدہ لا شریک کا قائم کردہ مرکز ہے وہ ضرور پھر احمدیوں کے قبضہ میں آئے گا اور پھر اس کی گلیوں میں دنیا بھر کے احمدی خدا کی حمد کے ترانے گاتے پھریں گے۔جو لوگ اس وقت ہمارے مکانوں اور ہماری جائیداد پر قابض ہیں۔اس میں