سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 361 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 361

- چکا تھا۔سول کے حکام جو عام حالات میں قانون و انتظام کے قیام کے ذمہ دار ہوتے ہیں کاملا بے بس ہو چکے تھے اور ان میں ۶۔مارچ کو پیدا ہونے والی صورت حالات کا مقابلہ کرنے کی کوئی خواہش اور اہلیت باقی نہ تھی۔نظم حکومت کی مشینری بالکل بگڑ چکی تھی اور کوئی شخص مجرموں کو گرفتار کر کے یا ارتکاب جرم کو روک کر قانون کو نافذ العمل کرنے کی ذمہ داری لینے پر آمادہ یا خواہاں نہ تھا۔انسانوں کے بڑے بڑے مجمعوں نے جو معمولی حالات میں معقول اور سنجیدہ شہریوں پر مشتمل تھے ایسے سرکش اور جنون زدہ ہجوموں کی شکل اختیار کرلی تھی جن کا واحد جذیہ یہ تھا کہ قانون کی نافرمانی کریں اور حکومت وقت کو جھکنے پر مجبور کر دیں اس کے ساتھ ہی معاشرے کے ادنیٰ اور ذلیل عناصر موجودہ بد نظمی اور ابتری سے فائدہ اٹھا کر جنگل کے درندوں کی طرح لوگوں کو قتل کر رہے تھے ان کی املاک کو لوٹ رہے تھے اور قیمتی جائیداد کو نذر آتش کر رہے تھے۔محض اس لئے کہ یہ ایک دلچسپ تماشہ تھا یا کسی خیالی دشمن سے بدلہ لیا جارہا تھا۔پوری مشینری جو معاشرے کو زندہ رکھتی ہے پر زہ پر زہ ہو چکی تھی۔" (رپورٹ صفحہ ۱۹۳) تحقیقاتی عدالت کے وقیع سنجیدہ اور بالغ نظر جوں نے فتنہ احرار کے متعلق نہایت معنی خیز تمثیل سے جامع تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:۔احرار نے ایک بچہ جنا جسے انہوں نے متبنی بنانے کے لئے علماء کی خدمت میں پیش کیا علماء نے اس کا باپ بننا منظور کر لیا لیکن مسٹر دولتانہ نے سمجھ لیا کہ یہ بچہ بڑا ہو کر پنجاب میں شرارت کرے گا لہذا انہوں نے اسے ایک نہر میں بہا دیا جو مسٹر نور احمد کی مدد سے کھو دی گئی تھی اور جس کو پانی اخباروں نے اور خود مسٹر دولتانہ نے مہیا کیا تھا۔جب یہ بچہ حضرت موسیٰ کی طرح بہتا ہوا خواجہ ناظم الدین تک پہنچا تو انہوں نے دیکھا کہ بچہ خوبصورت تو ہے لیکن اس کے چہرے پر ایک چین جبیں اور ایک غیر معمولی سی ناگواری نظر آتی ہے۔چنانچہ انہوں نے اسے گود میں لینے سے انکار کیا اور پرے پھینک دیا اس پر بچے نے ایڑیاں رگڑنا اور شور مچانا شروع کر دیا۔اس شور نے اس کی پیدائش کے بے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور خواجہ ناظم الدین اور دولتانہ دونوں کو موقوف کرا دیا۔یہ بچہ ابھی زندہ ہے اور راہ دیکھ رہا ہے کہ کوئی آئے اور اسے اٹھا کر گود میں لے اس مملکت خداداد پاکستان میں سیاسی ڈاکوؤں، طالع آزماؤں اور گمنام و