سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 319 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 319

٣١٩ استحکام کا راز پنہاں ہے۔مجاہدین اس وقت باطل کے خلاف شدائد و آلام کے باوجود استقلال سے نبرد آزما ہیں۔ان کو اس وقت گرم ملبوسات کی اشد ضرورت ہے جو فوری طور پر پہنچانے چاہئیں تاکہ ان کو کچھ سہولت میسر ہو۔۔۔پاکستان کی سرحدوں کے تحفظ اور دفاع کا ذکر کرتے ہوئے۔حضرت امام جماعت احمدیہ نے فرمایا۔” وہ لوگ جو سرحد کے ساتھ ساتھ بستے ہیں انہیں فوری طور پر مسلح کر دیا جائے اور انہیں فوجی اسلحہ کے استعمال کی تربیت دی جائے۔وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ آبادی کے ہر طبقے میں تنظیم و ضبط کی روح بیدار کی جائے۔" ایسٹرن ٹائمز ؟ لاہور ۳۔دسمبر۷ ۱۹۴ء) استحکام پاکستان کے متعلق مذکورہ بالا معرکۃ الآراء تقاریر کے علاوہ حضور نے ہر موقع ہے محب الوطن من الایمان کا مظاہرہ کرتے ہوئے دامے درمے قدمے سخنے ہر طرح پاکستان کی بہتری و بہبودی کیلئے کوششیں فرمائیں۔پاکستانی نوجوانوں سے ایک ولولہ انگیز خطاب میں حضور فرماتے ہیں۔پاکستانی نوجوانو! تم ایک نئے ملک کے شہری ہو دنیا کی بڑی مملکتوں میں سے بظاہر ایک چھوٹی سی مملکت کے شہری ہو ، تمہارا ملک مالدار ملک نہیں ہے ایک غریب ملک ہے، دیر تک ایک غیر حکومت کی حفاظت میں امن اور سکون سے رہنے کے عادی ہو چکے ہو ، تمہیں اپنے اخلاق اور اپنے کردار بدلنے ہونگے۔تمہیں اپنے ملک کی عزت اور ساکھ دنیا میں قائم کرنی ہوگی۔تمہیں اپنے وطن کو دنیا سے روشناس کرانا ہو گا۔ملکوں کی عزت کو قائم رکھنا بھی ایک بڑا دشوار کام ہے لیکن ان کی عزت کو بنانا اس سے بھی زیادہ دشوار کام ہے اور یہی دشوار کام تمہارے ذمہ ڈالا گیا ہے تم ایک ملک کی نئی پود ہو تمہاری ذمہ داریاں پرانے ملکوں کی نئی نسلوں سے بہت زیادہ ہیں۔انہیں ایک بنی بنائی چیز ملتی ہے انہیں آباؤ اجداد کی سنتیں یا روائتیں وراثت میں ملتی ہیں مگر تمہارا یہ حال نہیں ہے۔تم نے ملک بھی بنانا ہے اور تم نے نئی روائتیں بھی قائم کرنی ہیں۔ایسی روائتیں جن پر عزت اور کامیابی کے ساتھ آنے والی بہت سی نسلیں کام کرتی چلی جائیں اور ان روائتوں کی راہ نمائی میں اپنے مستقبل کو شاندار بناتی چلی جائیں۔پس دو سرے قدیمی ملکوں کے لوگ ایک اولاد ہیں مگر تم ان کے مقابلے پر ایک باپ کی حیثیت